طالبان سے مذاکرات کیلئے کمیٹی میں فوج کی نمائندگی نہیں ہونی چاہئے: فضل الرحمٰن

اسلام آباد (جاوید الرحمٰن/ دی نیشن رپورٹر) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے طالبان سے مذاکرات کیلئے بنائی جانے والی کمیٹی میں فوج کی نمائندگی اور براہ راست مذاکرات کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا اقدام قومی ادارے کے وقار کو کم کرنے اور غیر ریاستی عناصر کی اہمیت کو بڑھانے کے مترادف ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کیا ہم ایسی تجویز دے رہے ہیں کہ ڈیفنس اسٹیبلشمنٹ سیاسی حکومتی کے کنٹرول میں نہیں ہے؟ ان خیالات کا اظہار سربراہ جے یو آئی (ف) نے گذشتہ روز ’’دی نیشن‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں مگر فوج کو مذاکراتی کمیٹی میں شامل کر کے براہ راست مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ فوج کو براہ راست طالبان سے مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ جرگہ کے ذریعے کیا جاتا تو ہم اسکی ضرور حمایت کرتے مگر مجھے فوج کی مذاکراتی ٹیم میں نمائندگی کی تجویز یا سوچ پسند نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ نئی مذاکراتی ٹیم بھی پہلی کمیٹی کی طرح کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ مزید برآں این این آئی کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ دینی مدارس کیخلاف قومی اسمبلی سے کوئی قانون پاس نہیں ہونے دیں گے، مذاکرات کیلئے فوج سمیت تمام اداروں کو اعتماد میں لینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا اگر حکومت کی جانب سے دینی مدارس کے خلاف کوئی قانون پیش کیا گیا تو جمعیت علمائے اسلام (ف) اس کی بھرپور مخالفت کرے گی اور اسمبلی سے مدارس کے خلاف قانون کو پاس نہیں ہونے دیں گے۔