حکومت بعض لوگوں کے جھانسے میں آکر فوجی آپریشن کی غلطی سے باز رہے: سمیع الحق

لاہور (آئی این پی/ این این آئی) طالبان مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ حکومت بعض لوگوں کے جھانسے میں آکر فوجی آپریشن کی غلطی کرنے سے باز رہے۔ بندوق اور گولی سے دہشت گردی کا خاتمہ اور امن قائم کرنیوالے خیالی پلائو پکا رہے ہیں۔ حکو مت سنجیدہ رہی تو مذاکرات کامیاب اور ملک میں امن قائم ہو جائیگا۔ جے یو آئی (س) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عاصم مخدوم سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق نے کہا کہ ہم بھی دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے حامی ہیں اسی لئے حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ طالبان کی جنگ بندی بھی ملک میں امن کے آغاز کی جانب مثبت قدم ہے اور حکو مت کو اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ماضی میں بھی بہت فوجی آپریشنز ہوئے مگر اس کے نتیجے میں امن قائم نہیں ہو سکا۔ جماعتی رہنما میاں محمد عارف ایڈووکیٹ کی نمازجنازہ کے بعد جماعتی عہدیداروں سے مشاورت کے موقع پر خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق نے کہاکہ مذاکرات کے مخالفین کو بھیانک مستقبل کا اندازہ نہیں  اگر آپریشن علاج ہوتا تو امریکہ کامیاب ہو چکا ہوتا لیکن وہ 12سال بعد ذلیل وخوار ہوکر واپس بھاگ رہا ہے حکومت اور فوج ایک دوسرے سے الگ الگ رہ کر مسائل حل نہیں کرسکتے دونوں کو ایک ساتھ ہوکر امن مصالحت کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا، طالبان سے صلح ہو یا نہ ہو ہم پاکستان کو مغرب سے آزادی دلانے اور خدا کی زمین پر خداکے نظام کے نفاذ کیلئے کوشش کرتے رہیں گے۔  میاں عارف ایڈووکیٹ کی جمعیت علماء اسلام کا قیمتی اثاثہ تھے۔ خداکی زمین پر خدا کا نظام ہماراعزم اور ہدف شریعت کا نفاذ ہے، ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی وجہ سے پاکستان عذاب میں مبتلاہوچکا ہے ۔ افغانستان کے طالبان ہوں یا پاکستان کے طالبان دونوں پرویز مشرف کی پالیسیوں کی پیداوار ہیں ہم کوشش کررہے ہیں کہ طالبان سے صلح ہو جائے اس حوالے سے امت مسلمہ کی دعائیں رنگ لارہی ہیں، جب گھر پر باہر والوں کا قبضہ ہو جائے تو گھر والوں کی مرضی نہیں چلتی دشمن امریکہ اورمغربی قوتیں پاکستان میں حملہ آور ہیں ہم نے ان سے آزادی حاصل کرنی ہے جو لوگ مذاکرات کی مخالفت کر رہے ہیں میرا ان سے سوال ہے کہ وہ کن بنیاد پر مذاکرات کی مخالفت کررہے ہیں اگر آپریشن علاج ہوتا تو امریکہ افغانستان میںکامیاب ہو جاتا لیکن وہ رسوا ہوکر واپس جارہا ہے،آپریشن کرکے جو بے گناہ جاں بحق ہونگے ان کاگناہ مذاکرات کے مخالفین کوبھی ہوگا، انہیں بھیانک مستقبل کا اندازہ نہیں ہے۔ طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ رابطہ کرنے میں مشکلات اور خطرات حائل ہیں، طالبان نے  احرارالہند تنظیم کی نشاندہی کے حوالے سے اپنا کام تیز کردیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ابراہیم  نے کہا کہ ڈرون اور خراب حالات کے باعث طالبان سے ملاقات میں مشکلات آرہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممکن ہے ایک یا دو دنوں میں طالبان سے ملاقات کرلیں گے۔ طالبان سے مذاکرات کیلئے حکومتی کمیٹی کے ممبران کو بھی لے جانے کا امکان ہے، ممکن ہے رستم شاہ مہمند بھی ہمارے ساتھ طالبان سے ملاقات کیلئے جائیں۔ چارسدہ پریس چیمبر کے پروگرام گیسٹ آور سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف اپنے وزیر دفاع کو لگام دیں ۔ پشاور اور اسلام آباد کے چھ سو محفوظ گھروں میں بیٹھے امریکی پاکستان کیخلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں، فوج حکومت کی ملازم ہے ۔ طالبان کے حوالے سے حکومت جو بھی فیصلہ کریگی فوج کو من و عن تسلیم کرنا ہو گا۔ آئین شرعی اور اسلامی ہے، موجودہ مذاکراتی عمل ناکام ہوا تو ہم پھر بھی  مذاکرات کا مطالبہ کرینگے۔ طالبان کمیٹی نے مذاکراتی عمل میں فوج کو شامل کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا لیکن اگر فوج مذاکراتی عمل میں شامل ہو جائے تو مذاکراتی عمل کیلئے بہت مفید ہو گا۔ طالبان کے مذاکراتی کمیٹی نے تحریک طالبان پر واضح کیا ہے کہ آئین پر جید علمائے کرام اور سیاسی رہنماوں کے دستخط موجود ہیں اسلئے موجودہ آئین کو سرسری طور پر غیر اسلامی قرار دینا درست نہیں۔ حکومت آئین میں موجود اسلامی دفعات پر عمل درآمد یقینی بنائے تومذاکراتی کمیٹی طالبان کو موجودہ آئین پر قائل کریگی جبکہ طالبان کی طرف سے بھی مذاکراتی کمیٹی پر واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ وقت میںآئین پر بحث کی بجائے امن کی بحالی کی کوشش ہونی چاہئے امن بحال ہو توآئین پر بھی بات ہو گی۔  اپوزیشن جماعتوں کو دوغلا پن چھوڑنا ہو گا۔پروفیسر ابراہیم نے و اشگاف الفاظ میں کہا کہ موجودہ مذاکراتی عمل ناکام ہوا تو ہم پھر بھی  مذاکرات کا مطالبہ کرینگے۔