کشمیر پر اقوام متحدہ کا مبصر مشن نئی دہلی میں سرکاری بنگلہ خالی کر دے: بھارت

نئی دہلی (رائٹرز) بھارت نے کشمیر پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کو نئی دہلی میں گھر چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ بھارتی طویل عرصے سے اس مشن کی مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ نے بتایا کہ حکومت نے پاکستان اور بھارت پر یو این ملٹری آبزرورز گروپ کو گزشتہ 40 سال سے قائم نئی دہلی میں اپنا دفتر چھوڑنے کا کہا ہے یہ گروپ 1949ء پاکستان بھارت جنگ کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ یو این مشن کے مرکزی دفاتر مقبوضہ کشمیر کے صدر مقام سری نگر اور اسلام آباد میں موجود ہیں جو سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے مطابق خطے میں سیزفائر کو سپروائز کرتی ہے۔ نئی دہلی کا موقف ہے کہ 1972ء میں شملہ معاہدہ کے بعد اقوام متحدہ کا خطے میں کردار انتہائی کم ہے کیونکہ اس معاہدے میں پاکستان اور بھارت کشمیر سمیت تمام متنازع امور باہمی طور پر نمٹانے پر اتفاق کر چکے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین نے کہا کہ جہاں تک ہمارے تحفظات ہیں وہ یہ ہیں کہ یو این مبصر گروپ اس حوالے سے غیر متعلق ہو گیا ہے اور ہم پہلے بھی کئی مواقع پر یہ بات کہہ چکے ہیں۔ ملٹری آبزرور گروپ نے کہا کہ بھارت میں الیکشن کے دوران مئی میں اسے نئی دہلی کی جانب آفس چھوڑنے کی درخواست موصول ہوئی تھی آفس انچارج میجر نکولس ڈیاز نے کہا کہ دفتر چھوڑنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یو این مبصر گروپ اس حوالے سے کردار ادا کرتا رہے گا اور وہ دفتر کی متبادل جگہ تلاش کر رہے ہیں۔ پاکستانی فوجی حکام کشمیر میں بھارت کی جانب سے سیزفائر کی خلاف ورزی پر بارہا یو این مبصر گروپ کو شکایات کر چکے ہیں جبکہ بھارتی فوجی حکام نے 1972 سے کوئی شکایت درج نہیں کرائی اور بھارتی جانب سے لائن آف کنٹرول پر یو این مبصرین کی سرگرمیوں پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔