شمالی وزیرستان: بمباری سے غیر ملکیوں سمیت13 دہشت گرد ہلاک، متاثرین میں بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے: اقوام متحدہ

اسلام آباد/ نیویارک (انعام اللہ خٹک/ نیشن رپورٹ+ایجنسیاں) شمالی وزیرستان میں پاک فوج کا آپریشن ضرب عضب گذشتہ روز بھی جاری رہا۔ جیٹ طیاروں کی بمباری سے مزید 13 دہشت گرد ہلاک جبکہ انکے 7 ٹھکانے  تباہ کر دیئے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے دیگان میں جیٹ طیاروں نے دہشت گردوں کی کمین گاہوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 13 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت غیر ملکی دہشتگردوں کی ہے۔ واضح رہے کہ شمالی وزیرستان میں بویا اور دیگان غیر ملکی دہشت گردوں کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ اب تک سب سے زیادہ غیر ملکی بھی دیگان میں ہی مارے گئے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنیوالوں کی تعداد 7لاکھ 87ہزار 885ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 62 ہزار 493 خاندانوں کی رجسٹریشن مکمل ہو گئی ہے ان میں 2لاکھ 11ہزار 549 مرد اور  2لاکھ 36ہزار 883 خواتین اور 3 لاکھ 35 ہزار 456 بچے شامل ہیں۔ اے پی اے کے مطابق  میران شاہ میں پاک فوج کے زمینی دستوں کی پیش قدمی بھی جاری ہے۔ مادر وطن کے بہادر سپوتوں نے دہشت گردوں کا محاصرہ مزید سخت کر دیا ہے۔ تین ہفتوں سے جاری آپریشن میں انتہا پسندوں کے زیرکنٹرول علاقے سے بھاری مقدار میں خطرناک جدید ہتھیار، بارودی مواد سے بھری فیکٹریاں اور ٹینک شکن بارودی سرنگیں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ دیامر کے جنگلات میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ ہو گئے اور سکیورٹی فورسز نے دو مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ صبح چھے بجے شروع کیے گئے آپریشن میں پاک فوج گلگت، بلتستان اسکاؤٹس اور پولیس کے کمانڈوز نے حصہ لیا۔ آئی این پی کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین نے کہا ہے  شمالی وزیرستان سے تقریباً 95 ہزار پاکستانی افغانستان آئے جن کے لیے خوراک کی اشد ضرورت ہے۔ نیویارک میں سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے بریفنگ کے دوران بتایا شمالی وزیرستان سے زیادہ تر افراد خوست اور پکتیکا صوبوں میں آئے ہیں ان میں بیشتر خالی ہاتھ ہیں۔ نائب ترجمان نے بتایا اقوام متحدہ کے اداروں اور دیگر تنظیموں نے وسط جون کے بعد امداد کا دائرہ وسیع کیا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے 900 خاندانوں میں راش تقسیم کیا گیا ہے، یونیسیف، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنے والی تنظیموں نے تقریباً 25 ہزار بچوں کو پولیو سے بچائو کی ویکسین بھی پلائی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے 25 ہزار مریضوں کے لیے جان بچانے والی دوائیں مہیا کی ہیں جبکہ یو این ایچ سی آر نے سیکڑوں خاندانوں کو خیمے فراہم کیے ہیں۔ تاہم متاثرین کو خوراک، نکاسی آب، صاف پانی کی فراہمی اور علاج معالجے کی سہولتوں کی فراہمی میں مشکلات ہیں۔ نیشن رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ ایجنسی برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والی آئی ڈی پیز میں بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں یا این جی اوز کو متاثرین کی مدد کرنے کی اجازت دے۔ دی نیشن کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان میں یو این ایچ سی آر کے سربراہ نیل رائٹ نے کہا پینے کا پانی، شہری سہولیات اور گھروں کی عدم موجودگی کے باعث متاثرین آپریشن میں بیماریوں کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا پانی کے ذخائربنوں کے رہائشیوں کیلئے ہی کافی نہیں اور ہم آئی ڈی پیز کی صحت کے حوالے سے خدشات سے دوچار ہیں۔ ہم شمالی وزیرستان سے آنے والے لوگوں کو بنیادی سہولتیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا یو این ایچ سی آر 6 ماہ تک 5 لاکھ تعداد کو کیمپ اور نان فون آئٹمز دے سکتی ہے اور اگر آپریشن طویل ہوا تو ہم آئی ڈی پیز کیلئے مزید وسائل کو استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بنوں میں 209 سکولوں میں آئی ڈی پیز کو ٹھہرایا گیا ہے اور گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد یہ سکول خالی کرنا ہونگے جس کی وجہ سے متاثرین کیلئے متبادل رہائش کا بندوبست کرنا ہو گا اور اس صورتحال میں این جی اوز اور دورہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چیف کمشنر برائے مہاجرین اور یو این ایچ سی آر کے دوسرے عہدیدار گذشتہ روز سے بنوں میں موجود ہیں۔ تاکہ حکومتی ایجنسیوں سے اجازت حاصل کی جائے کہ وہ گلگت سوشل ورکرز اور این جی اوز کو آئی ڈی پیز کی مدد کی اجازت دیں۔اسلام آباد سے نامہ نگار کے مطابق وفاقی وزیر برائے سیفران عبدالقادر بلوچ نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا شمالی وزیرستان آپریشن سے تاحال ساڑھے 8 لاکھ متاثرین رجسٹرڈ کئے جا چکے ہیں، ہم حالت جنگ میں ہیں، یہ 65ء کی جنگ کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ اہم ہے۔