سپریم کورٹ نے الطاف حسین کی غیر مشروط معافی کا تحریر فیصلہ عدالتی حکم کا حصہ بنا دیا

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) سپریم کورٹ نے الطاف حسین کی غیر مشروط معافی کا تحریری فیصلہ عدالتی حکم کا حصہ بنا دیا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ توہین عدالت کارروائی کا مقصد جج کا نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا تحفظ ہے۔ توہین عدالت سے عوام کے حقوق اور مفادات متاثر ہوتے ہیں کوئی فریق عدالت کی اتھارٹی کم کرے تو اس سے عوام کا انصاف کے ادارے پر اعتماد کم ہوتا ہے۔ غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے الطاف حسین کی نوٹس خارج کرنے کی استدعا منظور کی جاتی ہے۔