ممکنہ دہشت گردی، عدم تحفظ: لاہور بار کا غیرمعینہ مدت کیلئے ہڑتال کا اعلان

لاہور (اپنے نامہ نگار سے) ممکنہ دہشت گردی اور عدم تحفظ کے باعث لاہور بار ایسوسی ایشن نے غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال کا اعلان کر دیا اور وکلاءکے جنرل ہاﺅس نے متفقہ طور پر اس کی منظوری دیدی۔ گزشتہ روز لاہور بار ایسوسی ایشن کا ایوان عدل میں جنرل ہاﺅس کا اجلاس ہوا جس میں خطاب کرتے ہوئے صدر لاہور بار نعمان قریشی نے کہا عدالتوں اور وکلاءکو سکیورٹی فراہم کرنے کے متعلق ڈی آئی جی نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے وسائل میں رہ کر عدالتوں کو جتنی سکیورٹی فراہم کر سکتے ہیں کردی، اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا ڈی آئی جی وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی زبان بولتے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ رانا ثناءاللہ کے اشارے پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا حکومت کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے عدالتی احاطے وکلاءکی ملکیت نہیں، یہ حکومتی ادارے ہیں اور انہیں تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا وزیراعلیٰ سے ہم تحفظ کی بھیک نہیں مانگتے مگر احاطہ عدالت کو تو محفوظ کریں ہم اپنے گھروں کے لئے سکیورٹی نہیں مانگتے۔ انہوں نے کہا اس حوالے سے ہم نے وزیراعلیٰ اور وزیر اعظم سے ملاقات کے لئے خط بھجوایا اور متعدد بار یاد دہانی کی چٹھیاں بھیجیں مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا رانا ثناءاللہ نے ہماری ملاقات نہیں ہونے دی۔ ہم نے طاقت ور ڈکٹیٹروں کے ساتھ امریکہ کے خلاف جنگ لڑی ہم موت سے نہیں ڈرتے مگر سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کا کام ہے۔ انہوں نے کہا سب سے بڑا خطرہ مجھے ہے اور اس کے لئے تین بار میرے دفتر میں مسلح غیر پنجابی لوگ آئے، مجھ سے بھتہ بھی مانگا گیا مگر میں کسی دھمکیوں میں نہیں آیا تاہم مجھے مارنے کے لئے میرے دفتر میں جو آدمی آئے ان کی فوٹیج حکومت اور پولیس کو دے دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے وہ لوگ کب گرفتار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا ان حالات کے باوجود میں اپنے لئے سکیورٹی نہیں مانگتا۔ میرا ایمان ہے جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں ہو سکتی لیکن خدارا عدالتی احاطوں کو تو محفوظ کریں۔ انہوں نے کہا اب عدالتیں تب کھلیں گی جب وزیراعلیٰ پنجاب خود آکر ہمیں کہیں گے ہم نے عدالتوں کی سکیورٹی کے لئے فورس اور جدید آلات دے دیئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا چیف جسٹس عدالتوں کو سکیورٹی فراہم نہ کرنے پر ازخود نوٹس کیوں نہیں لیتے۔ عدم تحفظ کے باعث غیر معینہ مدت تک ہڑتال رہے گی اور یہ ہڑتال کسی چیف جسٹس کے کہنے پر بھی ختم نہیں کی جائے گی۔ سابق سیکرٹری لاہور بار جی اے خان طارق نے کہا سی سی پی او نے جو وکلاءکے بھیس میں دہشت گردی کے خدشے کا ہمیں مراسلہ بھیجا ہے وہ ایسے ہے ”جاگدے رہنا ساڈے تے نہ رہنا “۔ انہوں نے کہا انتظامیہ یہ بات کان کھول کر سن لے کسی وکیل کو کوئی نقصان ہوا تو اس کی ایف آئی آر آئی جی پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف ہوگی اور اس میں لاہور بار ایسوسی ایشن خود مدعی بنے گی۔ سیکرٹری جنرل کامران بشیر مغل نے کہا سی سی پی او کو دہشت گردی کے خطرے کا ہمیں خط بھجوانا زیب نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا یہ کتنی شرم کی بات ہے ہمارے ہی ٹیکسوں سے تنخواہیں وصول کرنے والے حکومتی ملازم ہمیں مراسلہ کے ذریعے اطلاع کر رہے ہیں عدالتوں میں دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ انہوں نے ایسے ہی مراسلے بھجوانے ہیں تووہ مستعفیٰ ہو جائیں۔