تقسیم کار کمپنیوں کی درخواست پر بجلی مہنگی کی، سپریم کورٹ میں حکومتی جواب

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق جواب جوائنٹ سیکرٹری پاور ضرغام اسحاق نے جمع کرایا۔ نیپر ا کی طرف سے 5 اگست کو نرخوں کے تعین کی کارروائی کی رپورٹ جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے قیمتوں میں اضافے کی درخواست بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ہیں جبکہ یکم اکتوبر کا بجلی کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن بھی جمع کرایا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے م¶قف اختیار کیا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن نیپرا کی ط رف سے متعین کردہ نرخوں کی بنیاد پر جاری کیا گیا۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے درخواستوں پر قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ 200 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین پر اضافے کا بوجھ نہیں ڈالا گیا۔ نیپرا نے تقسیم کار کمپنیوں کے الگ الگ نرخ مقرر کئے تھے۔ سب سے کم اور ایک جیسے نرخ دینے کے لئے سبسڈی دی جا رہی ہے۔ اس سے قبل نجی ٹی وی کے مطابق حکومت کی تجویز ہے کہ بجلی کے لائف لائن صارف کے یونٹ تین سو کر دیئے جائیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پانی و بجلی ڈاکٹر مصدق ملک نے م¶قف اختیار کیا تھا کہ یہ تجویز حکومت سپریم کورٹ اور نیپرا میں جمع کرا رہی ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق نے کہا کہ 86 فیصد صارفین 300 یونٹ استعمال کرنے والوں میں شامل ہیں۔ 300 یونٹ استعمال کرنے والوں پر بجلی کی قیمت میں اضافے کا بوجھ نہیں پڑیگا۔ سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کریگی تسلیم کیا جائیگا۔ ڈاکٹر مصدق نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کےلئے سبسڈی دینا پڑے گی، پھر نوٹ چھاپنے پڑیں گے جس کے بعد افراط زر میں تین چار گنا اضافہ ہو جائےگا۔ حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا گیا۔ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ اس قسم کے نوٹیفکیشن جاری کرنا نیپرا کی ذمہ داری ہے اس لئے بجلی کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن نیپرا جاری کرے۔ مصدق ملک نے کہا کہ حکومت کو بجلی کی مد میں جو سبسڈی دینا پڑے گی وہ قریباً 500 یا 600 ارب روپے بنتی ہے۔ ےہ تو لوگوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ لائٹ بند کریں یا نہ کریں اور پنکھا بند کریں یا نہ کریں، اگر حکومت نوٹ چھاپنا شروع کردے تو پھر فیصلہ کرنا پڑے گا کہ لوگ دو وقت کا کھانا اپنے بچوں کے سامنے رکھیں یا نہ رکھیں۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا گیا۔ حکومت اگر سبسڈی دینے کے لئے نوٹ چھاپتی ہے تو افراط زر میں تین گنا اضافہ ہو گا اگر ایسا ہوا تو عوام کو بجلی نہیں روٹی کے لالے پڑ جائیں گے۔ گیس کی ترجیحات صحیح کرنا ہوں گی اگر تمام گیس کی سہولتیں بند بھی کر دیں تو اتنی گیس ملتی ہے کہ جس سے بجلی گھر چلائے جا سکیں۔ حکومت کو نئے بجلی گھر بنانے میں تین سال کا عرصہ لگ جائے گا، اضافی بجلی حاصل کرنے کے لئے نئے پلانٹ لگانے پڑیں گے۔ دریں اثنا وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بجلی کے موجودہ ٹیرف تبدیل نہیں ہوں گے۔ قانون کے تحت وزارت پانی و بجلی نیپرا کے تابع ہے۔ بجلی کے نرخوں پر نظرثانی کی باتیں افواہیں ہیں۔ 200 یونٹ تک بجلی کی قیمت میں تبدیلی نہیں کی۔ عدالت جو کہے گی وہ کریں گے۔ بل دینے کی استطاعت نہ رکھنے والوں کو ریلیف دیں گے۔ حکومت اب بھی 200 ارب روپے سے زائد سبسڈی دے رہی ہے۔ کے ای ایس سی سے زیادہ سستی بجلی ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کے ای ایس سی 42 ارب روپے کی نادہندہ ہے۔