بھارت کو الزام تراشی کی سیاست ترک کرنا ہو گی‘ دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ملے ہیں: دفتر خارجہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + نوائے وقت نیوز + آن لائن) پاکستان کے دفتر خارجہ نے پہلی بار قدرے کھل کر کہا ہے ملک کے اندر ہونے والی دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونا خارج از امکان نہیں۔ بھارتی الزام تراشی کی سیاست ترک کرنی ہو گی۔ کشمیریوں کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کیا جانا چاہئے۔ وزیراعظم نوازشریف نے بلوچستان میں شورش کا معاملہ منموہن سنگھ کے ساتھ اٹھایا ہے۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کا دورہ نیویارک انتہائی کامیاب رہا جس کا اندازا یوں بھی کیا جا سکتا ہے قیام نیویارک کے دوران انہوں نے اٹھارہ ممالک کے سربراہان حکومت و مملکت سے ملاقاتیں کیں۔ تین اہم کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے ساتھ نوازشریف کی ملاقات تعمیری رہی۔ اس ملاقات کے دوران کشمیر، بلوچستان، پانی، دہشت گردی، تجارت، سیاچن، سرکریک سمیت تمام تصفیہ طلب امور پر بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نے کھل کر عالمی برادری کے سامنے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا م¶قف پیش کرتے ہوئے کہا اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خود ارادیت ملنا چاہئے۔ بلوچستان کی صورتحال کے حوالہ سے وزیراعظم نے بھارتی قیادت پر واضح کیا پاکستان کو اپنے صوبہ کے حالات پر گہری سخت تشویش ہے۔ ایسی اطلاعات اور شواہد موجود ہیں بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں غیر ملکی قوتیں ملوث ہیں۔ ترجمان نے کہا نوازشریف نے بھارتی ہم منصب کے لئے دیہاتی عورت کا لفظ استعمال نہیں کیا، میڈیا میں یہ معاملہ توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے بتایا وزیراعظم نوازشریف اور امریکی صدر اوباما کی ملاقات 23 اکتوبر کو ہو گی، دورے کی تفصیلات تیار ہو رہی ہیں۔ آن لائن کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا پاکستان دہشت گردی کا مرکز نہیں۔ حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ پاکستان کی ڈرون حملوں کے خلاف آواز میں مزید آوازیں شامل ہوئی ہیں، لائن آف کنٹرول پر مسئلہ حل کرنے کے لئے جلد ڈی جی ملٹری میں بات چیت ہو گی۔ وزارت داخلہ کے پاس پاکستان میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔ ترجمان نے کہا طالبان سے مذاکرات کا معاملہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔ امریکہ میں نئے سفیر کی تعیناتی کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے اور انہوں نے ہی فیصلہ کرنا ہے۔ ترجمان نے کہا پاکستان نے ملا برادر کو رہا کر دیا ہے اور وہ آزاد ہے، افغان حکومت نے اس کو خوش آمدید بھی کہا ہے، مجھے علم نہیں ملا برادر کہاں ہے لیکن میرا خیال ہے وہ پاکستان میں ہے۔ نوائے وقت نیوز کے مطابق انہوں نے کہا وزیراعظم نوازشریف کے دورہ نیویارک کے دوران دہشت گردوں نے پاکستان میں کئی حملے کئے، حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا تاہم تحقیقات مکمل ہونے تک کچھ نہیں کہا جا سکتا حملے کس نے کئے۔ ڈرون حملوں کا جاری رہنا پاکستان میں طالبان کیساتھ مذاکرات کے لئے مفید نہیں، یہ نہیں کہہ سکتا امریکہ ڈرون حملے اس لئے جاری رکھے ہوئے کہ طالبان سے مذاکرات کامیاب نہ ہوں۔ اے پی اے کے مطابق انہوں نے کہا لائن آف کنٹرول پر دراندازی کا بھارتی الزام بے بنیاد ہے، کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا م¶قف واضح ہے اور اس حوالے سے پالیسی میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا پاکستان دہشت گردی کا مرکز نہیں۔ ثناءنیوز کے مطابق انہوں نے کہا پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے سمیت تمام ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے توانائی کے چیلنجز پر قابو پائیں گے۔