ظفر علی شاہ نے الطاف کی دوہری شہریت سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) ظفر علی شاہ نے عدالت عظمیٰ میں دوہری شہریت کے حوالے سے ایک آئینی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی دوہری شہریت ہے وہ حکومت برطانیہ کے وفادار ہیں اور عدالت دوہری شہریت کے حوالے سے واضح فیصلہ دے چکی ہے۔ اب ایم کیو ایم کے تمام ممبران اور پارٹی کے مستقبل کا تعین اب عدالت کو کرنا ہے۔ سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184(3) کے تحت درخواست دائر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ یہ درخواست ان کا ذاتی فعل ہے۔ اس میں ان کی جماعت کا کوئی کردار نہیں اور ایم کیو ایم کے خلاف اس درخواست کو ان کی ذات سے منسوب کیا جائے۔ درخواست میں متعدد آئینی نکات اٹھائے گئے ہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اگر سیاسی پارٹی کے سربراہ دوہری شہریت کے حامل ہوں اور وہ کسی دوسرے ملک سے وفاداری کا حلف لے چکے ہوں تو ایسی صورت میں پارٹی کا مستقبل کیا ہو گا۔ انہوں نے الطاف حسین کی دوہری شہریت کا حوالے دیتے ہوئے عدالت سے پارٹی کے ممبران اور رہنماﺅں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی استدعا کی ہے۔ درخواست میں الطاف حسین‘ ایم کیو ایم‘ وفاق اور الیکشن کمشن کو فریق بنایا گیا ہے۔