بھوتانی کا موقف آئین کے مطابق ہے یا نہیں، نئی بحث چھڑ گئی

بھوتانی کا موقف آئین کے مطابق ہے یا نہیں، نئی بحث چھڑ گئی

لاہور (فرخ سعید خواجہ) بلوچستان اسمبلی کے سپیکر محمد اسلم بھوتانی کے عدالتی حکم کی موجودگی میں حکومت کی طرف سے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بلانے اور اس کی صدارت سے انکار پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا سپیکر بلوچستان اسمبلی کا موقف آئین کے مطابق ہے یا نہیں۔ قومی اسمبلی کے سابق سپیکروں سید فخر امام، چودھری امیر حسین اور پنجاب اسمبلی کے سابق سپیکر سعید احمد منہیس نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے دو طریقے ہیں، ایک یہ کہ محکمہ قانون، وزیر قانون اجلاس بلانے کی سمری وزیراعلیٰ کی وساطت سے گورنر کو بھیجتے ہیں، گورنر کی منظوری کے بعد اسمبلی سیکرٹریٹ اجلاس بلانے کے لئے نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے۔ دوسرا طریقہ ریکوزیشن ہے جو صوبائی اسمبلی کے ایک چوتھائی ارکان کے دستخطوں سے سپیکر کو لکھ کر دی جاتی ہے۔ سپیکر اس پر چودہ دن میں اجلاس بلانے کا پابند ہوتا ہے۔ وہ چودہ دن سے زیادہ تاخیر نہیں کر سکتا۔ جہاں تک بلوچستان میں پیدا شدہ صورتحال کا تعلق ہے اس پر کسی نے بھی رائے زنی سے گریز کیا۔