ممکنہ احتجاج کی پیش بندی ، حکومت بجٹ میں سخت ٹیکس اقدامات سے گریز کرے گی

اسلام آباد (ابرار سعید / دی نیشن رپورٹ)  اپوزیشن جماعتوں کے حکومت کیخلاف اکٹھے ہونے کے پیش نظر پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آئندہ بجٹ میں سخت ٹیکس اقدامات سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسکا مقصد آئندہ دنوں میں حکومت کیخلاف ممکنہ احتجاج کی پیش بندی کرنا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں سے بیک گرائونڈ انٹرویوز اور بات چیت کے دوران حکومتی رہنمائوں اور ذرائع نے بتایا کہ حکومت موجودہ صورتحال پر پریشان ہے جس میں اپوزیشن جماعتیں حکومت کیخلاف متحد ہورہی ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے یکم جون کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مؤخر کرنے اور 1.78 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کرنا بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت یہ اقدامات اسلئے کررہی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کیخلاف کسی بڑے ایجی ٹیشن کا موقع نہ مل سکے۔ پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے نام نہ بتانے کی شرط پر دی نیشن کو بتایا کہ وہ صرف ہوم ورک کررہے ہیں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرکے ایک بار ریلیف کسی ایجی ٹیشن کے خطرے کے تحت نہیں دیا بلکہ عوام کو ریلیف دینا مسلم لیگ (ن) کے منظور کا حصہ ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق روزمرہ کی اشیاء خصوصاً کھانے پینے کی چیزوں، خوردنی تیل اور دوسری اشیاء پر ٹیکس لگانے کی تجویز تھی، جس کا عام آدمی کی جیب پر اثر پڑنا تھا۔ اسلئے یہ ٹیکس فی الحال نہیں لگایا جارہا۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ سے ملاقات میں وزیراعظم نے یہ واضح کیا کہ مڈل کلاس پر براہ راست اثر انداز ہونیوالے ٹیکس مؤخر کرکے زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے اور حکومت اپنی مالی حدود کے اندر رہ کر عوام کو ریلیف دیگی۔ ذرائع کے مطابق بھاری ٹیکس لگانے سے حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن شروع ہونے کا خطرہ ہے اور بعض فورسز حکومت کو غیر مستحکم کرنے کیلئے کوشاں ہوسکتی ہیں۔ مسلم لیگی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ وزیراعظم حکومت کے خلاف ممکنہ ایجی ٹیشن پر تشویش کا شکار ہیں۔ لندن میں طاہر القادری اور (ق) لیگ کے رہنمائوں کی ملاقات نے حکومتی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ حکومتی پارٹی کی قیادت نے ان لوگوں کو سیاسی یتیم قرار دیا ہے اور ان کی سرگرمیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نواز شریف نے اپنے مالی اور سیاسی مشیروں سے مشورے سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ حکومت ان پر اپنی کوئی کمزوری ظاہر ہونے دے گی اور نہ ہی انہیں اس کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 6 سے 8 گھنٹے رکھا جائیگا۔ خصوصی طور پر ماہ رمضان اور اگست کے مہینوں میں لوڈشیڈنگ کم ہوگی۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے سختی سے اقدامات کرنے اور ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت دی ہے کہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ نہ بڑھے۔ اس دوران اگر پن بجلی سے ضروریات پوری نہیں ہوں گی تو سی این جی سٹیشنز کو گیس کی سپلائی کم کردی جائے گی۔ سیاسی اور قانونی محاذوں پر بجٹ کے بعد حکومت انتخابی اصلاحات کے ایجنڈا کی جانب آئیگی جس کے تحت نئے چیف الیکشن کمشنر کا تقرر بھی شامل ہے جسے اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے تعینات کیا جائیگا۔ اس سے تحریک انصاف کی جانب سے خطرہ کم ہوگا۔ حکومت تحریک انصاف کیخلاف پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی بھی کوشش کرے گی تاکہ اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہوکر حکومت کیلئے خطرہ نہ بن سکیں۔