سخت گیر اجیت بھارتی قومی سلامتی کے مشیر مقرر‘ پاکستان کیلئے واضح پیغام

نئی دہلی (بی بی سی/ رائٹرز/ این این آئی) بھارت کے نئے وزیرِاعظم نے ملک کی قومی سلامتی کی ٹیم میں فوری ردوبدل کرتے ہوئے خفیہ اداروں سے منسلک رہنے والے ایک سخت گیر افسر کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیا ہے جو کئی سال تک پاکستان کے حوالے سے بھارتی قومی سلامتی کی دیکھ بھال کرتے رہے ہیں۔ بھارت کے سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے اس تعیناتی سے نریندر مودی نے بھارت کی طرف سے روایتی دشمن پاکستان کو سخت اور واضح پیغام دیا ہے۔ اجیت ڈوول اور انکے ساتھ بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ کی شمال مشرقی ریاستوں کے وفاقی وزیر کی حیثیت میں تعیناتی سے وزیرِاعظم نریندر مودی کے قومی سلامتی کے ادارے کی تشکیلِ نو کے منصوبے کی نشاندہی ہوتی کیونکہ مودی کے خیال میں گذشتہ حکومت کے دور میں قومی سلامتی کمزور ہو گئی تھی۔ رائٹرز کے مطابق یہ دونوں بڑے افسر براہ راست وزیرِاعظم کی نگرانی میں کام کریں گے اور انکی تعیناتی سے ظاہر ہوتا ہے۔ مودی ان دونوں ممالک یعنی پاکستان اور چین سے تحفظ کیلئے اقدامات کرنے میں سنجیدہ ہیں جن سے بھارتی قومی سلامتی کو بظاہر خطرہ درپیش ہو سکتا ہے۔ بی بی سی کا کہنا ہے سابق فوجی جنرل وی کے سنگھ اور اجیت ڈوول کے انتخاب کو بڑی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے اور مبصرین ان دونوں شخصیات کو مودی کی طرف سے اپنی سکیورٹی ٹیم میں شامل کئے جانے کو چین اور پاکستان کو اشارہ دینے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ اجیت ڈوول کا شمار بھارت کے ان سرکاری افسران میں ہوتا ہے جنہیں باغیوں کیخلاف خطرناک کارروائیاں کرنے کے نتیجے میں کئی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ اجیت ڈوول ہمیشہ سے دہشت گرد گروہوں کیخلاف سخت اقدامات کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ 1980ء کی دہائی میں سکھوں کیخلاف آپریشن میں اجیت ڈوول چھپ کر گولڈن ٹیمپل کے اندر پہنچ گئے تھے جہاں سے بعد میں فوجی کارروائی کے ذریعے شدت پسندوں کو نکال باہر کیا گیا تھا۔ اسکے علاوہ اجیت بھارت کی شمال مشرقی ریاست میزو رام میں ان طاقتور باغیوں کی صفوں میں گھسنے میں بھی کامیاب ہو گئے تھے جو بھارت سے آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے تھے۔ بالآخر ان باغیوں نے بھی ریاست کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا تھا۔ اس کے علاوہ اجیت ڈوول اس وقت بھی زمین پر موجود تھے جب دسمبر 1999ء میں پاکستان میں مقیم دہشت گردوں نے انڈین ایئر لائین کا ایک طیارہ اغوا کر کے اسے قندھار میں اترنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ایک محفوظ بھارت نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کا دیرینہ مقصد رہا ہے اور مودی کی اپنی خواہش بھی یہی ہے کہ بھارت کی سرحدیں مضبوط ہوں تاکہ وہ اپنی تمام توجہ ملک کی معاشی ترقی پر مرکوز کر سکیں۔ لیکن بھارت کو فکر ہے اس سال کے آخر تک افغانستان سے غیرملکی فوجوں کی اکثریت کے انخلا کے بعد وہاں پر جنگ میں مصروف اسلامی شدت پسندوں کا رخ کشمیر کی جانب مڑ سکتا ہے۔ بی بی سی کا کہنا ہے اجیت ڈوول ہندہ انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے ایک شعبہ کے سربراہ رہے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے بی جے پی کے انتخابی منشور بنانے میں بھی آر ایس ایس کے اس شعبے نے بھرپور مدد کی تھی۔ ’اجیت ڈوول سخت گیر ہندو خیالات کے حامل ہیں اور ان کو حکومت میں شامل کیا جانا ہمسایہ ملکوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔‘ این این آئی کے مطابق بھارتی میڈیا کا کہنا ہے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر سلامتی امور میں پاکستان اور چین کا خوف سوار ہو گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ان افسران کو ذمہ داریاں سونپ کر نئے بھارتی وزیراعظم نے اپنی سکیورٹی ترجیحات کو واضح کر دیا ہے۔ ان سکیورٹی ترجیحات میں پاکستان اور چین نمایاں ہیں۔ مبصرین کے مطابق وزیراعظم مودی اِن مشیران کی آراء اور مشوروں کے تناظر میں مستقبل میں پاکستان اور چین کے ساتھ ماضی کے مقابلے میں قدرے زیادہ سخت رویے کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔