پاکستان اور بھارت میں ایٹمی تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + ایجنسیاں)  پاکستان اور بھارت نے نئے سال  کے  آغاز پر  ایٹمی  تنصیبات اور قیدیوں  کی  فہرستوں  کا سالانہ تبادلہ کیا ہے۔ مذکورہ  معاہدہ کے تحت  دونوں ملک  پابند ہیں کہ وہ ان فہرستوں میں دی گئی ایٹمی  تنصیبات  پر حملہ نہیں کریں گے۔  اسلام آباد میں  پاکستان کی وزارت  خارجہ  نے اپنی فہرست  بھارتی ہائی کمشن  کے سپرد کی اسی طرح بھارت کی وزارت   برائے خارجہ امور  نے اپنی فہرست  نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشن  کے حوالے کی۔ دونوں  ہائی کمشنوں  نے یہ فہرستیں  اپنے ہیڈ کوارٹرز  کو ارسال کر دی ہیں۔ ان فہرستوں  میں شامل ایٹمی  تنصیبات  کی تعداد اور مقام کو خفیہ  رکھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی تنصیبات  کے حوالے سے معاہدہ 31 دسمبر 1988ء میں طے پایا تھا جبکہ  یکم جنوری 1992ء میں اس پر عمل  درآمد شروع ہوا۔ گزشتہ روز دونوں  ملکوں نے مجموعی  طور  پر تیئسویں  بار مسلسل  ایٹمی  تنصیبات کی فہرستوں  کا تبادلہ کیا ہے۔  دوسری جانب ایک بھارتی  خبر رساں  ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے پاس 100، 100 ایٹم بم موجود ہیں۔ ثناء نیوز کے مطابق  پاکستان میں 281 بھارتی اور بھارت میں 396 پاکستانی قیدی موجود ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں تک قونصلر رسائی کے حوالے سے موجود 21 جولائی 2008 ء کے معاہدے کے تحت دونوں ممالک سال میں دو مرتبہ یکم جنوری اور یکم جولائی کو قیدیوں کو فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں ۔ وزارت خارجہ کے حکام نے معاہدے کے تحت 281 بھارتی قیدیوں کی فہرست اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے کی ان قیدیوں میں 49 سویلین اور 232 ماہی گیر شامل ہیں۔