مشرف کے راستے سے پھر دھماکہ خیز مواد برآمد، وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیدیا

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ نوائے وقت رپورٹ+ اپنے سٹاف رپورٹر سے) چک شہزاد میں سابق صدر پرویز مشرف کے گھر کے قریب سے گذشتہ روز پیشی سے پہلے ایک بار پھر دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے جس کے بعد سکیورٹی انتظامات سخت کردئیے گئے۔ پولیس کے مطابق چک شہزاد اسلام آباد میں گھر کے قریب سے ایک کلو دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔ دھماکہ خیز مواد پیکٹ میں رکھا گیا تھا۔ 2 پیکٹ برآمد ہوئے تاہم ایک پیکٹ سے صرف انڈے اور دالیں برآمد ہوئیں۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کو طلب کرلیا گیا جس نے مواد کو ناکارہ بنا دیا۔ دریں اثناء احمد رضا قصوری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک فول پروف سکیورٹی نہیں ہوگی۔ مشرف عدالت نہیں آئینگے۔ بلوچستان ہائیکورٹ میں بھی بلوچستان حکومت نے بھی سکیورٹی مسائل کی وجہ سے مشرف کی عدالت میں پیشی سے معذوری ظاہر کی تھی۔ آئے روز انکے گھر سے باہر دھماکہ خیز مواد مل رہا ہے۔ دریں اثناء بیرسٹر محمد علی سیف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں پرویز مشرف کو لاحق خطرات پر تشویش ہے۔ اگر عدالت تحفظ فراہم کرے تو سابق صدر عدالت میں پیش ہوجائیں گے۔ ہمارے استفسار پر ڈی آئی جی نے خود عدالت کے روبرو اعتراف کیا ہے کہ انکے پاس بم پروف گاڑی نہیں۔ ایسی صورت میں پرویز مشرف کی عدالت میں پیشی کسی خطرے سے خالی نہیں۔ ہمیں خصوصی عدالت کی تشکیل اور دائرہ کار پر اعتراضات ہیں، اس حوالے سے بحث آج بروز جمعرات بھی جاری رہے گی اور جب تک اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ہم سے مقدمہ کی کارروائی آگے بڑھانے کا اصرار نہ کیا جائے۔ پولیس نے سابق صدر کی رہائش کے قریب سے دو مشکوک افراد کو بھی گرفتار کیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے مشرف کے عدالت جا نے کے راستے سے دھماکہ خیز مواد ملنے کے واقعہ کی تحقیقا ت کا حکم دیدیا۔ وزیراعظم نے واقعات سے متعلق وزارت داخلہ سے بھی رپورٹ طلب کرلی اور مشرف کو عدالت میں پیش کرنے کیلئے ہرممکن اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ علاوہ ازیں آج مشرف کی خصوصی عدالت میں پیشی کیلئے سکیورٹی دگنی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی پولیس اور رینجرز کے 1600 اہلکار آج سکیورٹی کے فرائض سرانجام دینگے۔