فیصل آباد: سرکاری عملہ پر تشدد کے مقدمہ میں ایم این اے ڈاکٹر نثار کو حراست میں لے کر چھوڑ دیا گیا

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر چودھری نثار احمد کو انکوائری کے موقع پر تھانہ ریل بازار پولیس نے حراست میں لینے کے بعد چھوڑ دیا۔ حراست کے موقع پر ڈاکٹر نثار احمد کے حامیوں اور گواہوں کی طرف سے تھانہ کے باہر احتجاج بھی کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق این اے83 سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر چودھری نثار احمد کو ڈپٹی جنرل پوسٹ ماسٹر نعمان اور پوسٹ آفس فیصل آباد کے عملہ پر تشدد کے مقدمہ میں ملوث ہونے پر تھانہ ریل بازار میں انکوائری کے بہانہ بلا کر مبینہ طور پر حراست میں لے لیا گیا۔ ڈاکٹر نثار کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ اورآئی جی پنجاب پولیس کی ایما پر ان کو جھوٹے مقدے میں ملوث کرکے مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رانا ثناء درحقیقت ’’ڈان‘‘ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی ایس پی نے انہیں فون کرکے انکوائری کا بہانہ کرکے بلایا تھا اور پھر مجھے کمرے میں بند کرکے کہاگیا کہ آپ کو حراست میں لے لیا گیا اور آپ کی گاڑیاں بھی پولیس نے قبضہ میں لے لی ہیں۔ جب ایم این اے ڈاکٹر نثار احمد کے حامیوں اور گواہوں کو اس معاملہ کا پتہ چلا تو وہ احتجاجاً تھانہ ریل بازار کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئے جس بناء پر پولیس نے انہیں چھوڑ دیا۔ ڈاکٹر چوہدری نثار نے کہا کہ پنجاب میں آج بھی تھانہ کلچر تبدیل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی صاحبزادہ بلال عمر‘ ایس ایس پی آپریشن غلام مبشر میکن اور ڈی ایس پی کیخلاف عدالت سے رجوع کروں گا اور رانا ثناء اللہ کیخلاف قومی اسمبلی میںآواز اٹھائوں گا۔