اویس ٹپی کے کاغذات کی مشروط منظوری، امیدواروں کا پروٹوکول ملنے پر اعتراض

اویس ٹپی کے کاغذات کی مشروط منظوری، امیدواروں کا پروٹوکول ملنے پر اعتراض

ٹھٹھہ (نوائے وقت نیوز + این این آئی) صدر آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر عرف ٹپی کے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسر نے مشروط طور پر منظور کرلئے۔ اس موقع پر ریٹرننگ افسر سلیم رضا بلوچ نے کہا کہ اگر آپ کیخلاف الیکشن کمشن سے رپورٹ آئی تو کاغذات مسترد کردیئے جائینگے۔ ریٹرننگ افسر نے استفسار کیا کیا آپ کی پاکستان میں کوئی جائیداد ہے؟ ٹپی نے جوابدیا جی نہیں۔ ریٹرننگ افسر نے پوچھا فجر کی نماز میں کتنی فرض رکعتیں ہوتی ہیں، دن میں کتنی نمازیں پڑھی جاتی ہیں؟ ٹپی نے جواب دیا فجر کے 2 فرض ہوتے ہیں اور دن میں 5 نمازیں پڑھی جاتی ہیں۔اویس مظفر ٹپی کی پیر کے روز بھاری سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ آمد کے موقع پر ٹھٹھہ بار ایسوسی ایشن کے وکلاءاور اویس مظفر ٹپی کے گارڈوں میں سخت تلخ کلامی ہوگئی اور گارڈوں نے وکلاءپر اسلحہ تان لیا جس پر ریٹرننگ افسر نے پیپلز پارٹی کے امیدوار اویس مظفر ٹپی سمیت ان کے ساتھ آنے والے سابق رکن سندھ اسمبلی اور صوبائی وزیر سسی پلیجو کے والد غلام قادر پلیجو، این اے 238 ٹھٹھہ 2 کے نامزد پارٹی امیدوار اور دوہری شہریت کے مالک انجینئر محمد صادق میمن سمیت درجنوں پیپلز پارٹی کے رہنماو¾ں کو کمرئے عدالت سے نکل جانے کا حکم دیا۔ اس سلسلے میں این این آئی کو مزید معلوم ہوا ہے سندھ اسمبلی کے انتخابی حلقے پی ایس88 ٹھٹھہ کے کئی دیگر پارٹیوں کے امیدواروں نے پیپلز پارٹی کے امیدوار اویس مظفر ٹپی کو پولیس سمیت رینجرز کی بھاری سیکیورٹی حاصل ہونے پر سخت اعتراضات کیا اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی تحریری طور پر آگاہ کردیا گیا ہے دوسری جانب پی ایس 88 پر آل پاکستان مسلم لیگ کی نامزد کردہ امیدوار میڈم ساجدہ آرائیں نے بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار اویس مظفر ٹپی کو حاصل بھاری سرکاری پروٹوکول کے سلسلے میں الیکشن کمیشن میں رٹ داخل کردی ہے۔