امن و امان: بلوچستان انتظامیہ کی بریفنگ پر سینٹ کمیٹی کا عدم اطمینان

 اسلام آباد (آن لائن) بلوچستان اور خضدار میں امن وامان کے معاملے پر سینٹ کی خصوصی کمیٹی نے بلوچستان اور خضدار میں امن وامان کی صورتحال کے بارے میں چیف سیکرٹری، آئی جی، کمانڈنٹ ایف سی اور چیف کمشنر خضدار کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ امن وامان کے معاملے پر کسی بھی سیاسی دباﺅ کو قبول نہ کرے ، کمیٹی نے خضدار سے سینیٹر میر حاصل خان بزنجو کی زیر صدارت سب کمیٹی قائم کردی جو خضدار میں جا کر امن وامان کے معاملے پر اجلاس کرے گی کمیٹی نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو ہدایت کی کہ بلوچستان میں امن وامان کی خراب صورتحال والے اضلاع میں قابل اور دیانتدار افسران تعینات کئے جائیں۔ خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں خضدار سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع میں امن وامان کی صورتحال کے بارے میں ارکان کمیٹی نے صوبائی انتظامیہ کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ اعلیٰ اہلکاروں نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے لئے گئے اقدامات کے تحت اغواءبرائے تاوان ڈاکہ زنی اور راہزنی کی وارداتو ںمیں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے تاہم بلوچستان کے معاملے میں قبائلی دشمنی سیاسی اثرورسوخ اور حکومتی عناصر کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ہاتھ بھی ملوث ہیں بلوچستان میں دہشتگردوں کے 73فراری کیمپ ہیں ہر کیمپ میں 15سے 20نوجوان لڑکوں کو دہشتگردی کی تربیت دی جاتی ہے ان دہشتگردوں کو ایک عام آدمی کو قتل کرنے کے عوض دو لاکھ روپے ، پولیس اہلکار کو قتل کرنے کے تین لاکھ روپے جبکہ پولیس افسر کو قتل کرنے کے دس لاکھ روپے معاوضہ دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان دہشتگردوں نے عام آدمیوں کے ساتھ ساتھ گداگروں کو بھی مارنا شروع کردیا تھا کیونکہ انہیں صرف اپنے معاوضے سے غرض تھی چیف کمشنر خضدار کا کہنا تھا کہ خضدار میں لڑائی ایک ہی قبیلے کے دو گروہوں کے مابین ہے جن میں سے ایک کی قیادت (ق) لیگ کے رہنما اور دوسرے بی این پی ( ایم ) کے رہنما کررہے ہیں۔ آئی جی بلوچستان کا موقف تھا کہ پولیس کے پاس صرف پانچ فیصد بی ایریا آتا ہے جبکہ صوبے کا باقی پچانوے فیصد اے ایریا لیویز کے زیر انتظام ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی نفری بہت کم ہے کوئی بھی دہشت گردوں کیخلاف گواہی دینے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کلثوم پروین، عبدالغفور حیدری اور میر حاصل خان بزنجو کے بریفنگ پر شدید تحفظات تھے ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے کیمپوں کے بارے میں بہت شور اٹھتا ہے لیکن گزشتہ چار برس میں ان کیمپوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کا ایک بھائی اور سردار اختر مینگل کا ایک بھائی دہشتگردی کی تنظیمیں چلا رہے ہیں۔