پنجاب میں بدترین لوڈ شیڈنگ پر حکومتی ارکان بھی علی بابا چالیس چوروں کے خلاف پھٹ پھڑے: شہباز شریف

پنجاب میں بدترین لوڈ شیڈنگ پر حکومتی ارکان بھی علی بابا چالیس چوروں کے خلاف پھٹ پھڑے: شہباز شریف

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے زرداری ٹولے نے لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے پنجاب کے ساتھ ظلم و زیادتی کی انتہا کر دی اور اب حکومتی ارکان بھی پنجاب میں بدترین لوڈ شیڈنگ پر علی بابا چالیس چوروں کے خلاف پھٹ پڑے ہیں، زرداری ٹولے کو پنجاب کے عوام کے خلاف انتقامی کارروائی انتہائی مہنگی پڑے گی، کوٹ لکھپت میں بجلی کی طویل بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرین سے خطاب، ٹینٹ آفس میں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سائلین سے ملاقات، تاج پورہ، فتح گڑھ، ہربنس پورہ اور ملحقہ آبادیوں کے مسلم لیگ (ن) کے عہدےداروں، کارکنوں اور رہائشیوں سے خطاب اور زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ملک میں توانائی کا بحران اور کربناک لوڈشیڈنگ علی بابا چالیس چوروں کا کارنامہ ہے۔ پنجاب میں 18، 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ زرداری کی پنجاب کے عوام کے خلاف انتقامی کارروائی ہے۔ مجھے صوبائیت کا طعنہ دینے والو سن لو میں اول اور آخر پاکستانی ہوں، این ایف سی ایوارڈ کی منظوری کے لئے پنجاب نے اپنا 11 ارب روپے کا حصہ چھوڑ کر صوبائیت نہیں بلکہ قومی یکجہتی، اتحاد اور محبت کے رشتے مضبوط کرنے کی مثال قائم کی تھی۔ انہوں نے کہا پنجاب کے ساتھ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے سراسر زیادتی کی جا رہی ہے۔ کراچی ہمارا روشنیوں کا خوبصورت شہر ہے، وہاں صنعتیں چھ دن چلتی ہیں جبکہ پنجاب میں صرف تین دن۔ پنجاب کے شہروں میں 18، 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ جبکہ کراچی میں ایک دن بھی نہ ہو، اسے کیسے ملک میں یکساں لوڈ شیڈنگ کہا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا حکمرانوں نے اپنے کالے کرتوتوں کی وجہ سے ملک کو اندھیروں میں دھکیل رکھا ہے اور پوری قوم لوڈشیڈنگ کے دردناک عذاب سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا ملک سے اندھیرے دور ہوں گے اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد نوازشریف کی قیادت میں وطن عزیز کو اندھیروں سے نکال کر اجالوں میں لائیں گے۔ احتجاجی مظاہرین نے گو زرداری گو کے نعرے لگائے۔ ٹینٹ آفس میں گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا آمرانہ دور میں جان بوجھ کر ادارے تباہ کئے گئے جس کے باعث آج بھی عوام کا اداروں پر اعتماد بحال نہیں ہو سکا۔ آج کا نظام اشرافیہ کا نظام ہے، غریب کی آواز کوئی نہیں سنتا۔ انصاف اور احتساب سب کے لئے برابر ہونا چاہئے لیکن 64 برس بیت گئے ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں سے ہم نے سفر شروع کیا تھا۔ پولیس نظام کی اصلاح کے لئے انقلابی اقدامات اٹھائے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود عوام کو تھانے کچہری میں انصاف کے حصول میں دھکے پڑتے ہیں۔ پولیس افسران اپنے دفاتر غریب عوام کے لئے 24 گھنٹے کھلے رکھیں۔ وزیر اعلیٰ نے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سائلین کے مسائل سنے اور ان کے ازالے کے لئے موقع پر ہی احکامات جاری کئے۔ مسٹر زرداری کے کہنے پر پچھلے چار سال کے دوران پنجاب کی 700 میگاواٹ بجلی کہیں اور بھجوا ئی جا رہی ہے۔ 18، 18 گھنٹے بجلی کی بندش پر عوام احتجاج نہ کریں تو کیا کریں، پرامن احتجاج عوام کا حق ہے لیکن میری ان سے اپیل ہے کہ احتجاج کے دوران نجی و سرکاری املاک کو ہر گز نقصان نہ پہنچایا جائے کیونکہ یہ ملک ہم سب کا سانجھا ہے، یہاں لوڈشیڈنگ یکساں ہونی چاہئے لیکن زرداری ٹولہ جان بوجھ کر پنجاب کے عوام سے انتقام لے رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے مطالبے پر سلامت پورہ میں ٹیوب ویل کی فراہمی اور ایل ٹی سی کی ایئرکنڈیشنڈ بسیں چلانے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ نے رہائشیوں کی شکایت پر قبرستان کی جگہ پر کئے گئے قبضہ کو واگزار کرانے کا حکم دیا۔ انہوں نے مصطفی آباد میں پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ نے عزیز بھٹی ٹاﺅن کی طرف سے علاقے میں ترقیاتی کام نہ کرانے پر رپورٹ طلب کر لی جبکہ فتح گڑھ کی ڈسپنسری کو اپ گریڈ کر کے 10 بستروں پر مشتمل ہسپتال بنانے اور سلامت پورہ ڈسپنسری کو میٹرنٹی سنٹر میں تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ علاقے کی خراب سڑکوں خصوصاً مومن پورہ روڈ، خواجہ حسان روڈ، ڈرائی پورٹ والی سڑک، گجا پیر روڈ اور دیگر سڑکوں کی فوری طور پر تعمیر و مرمت کا کام شروع کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے تاج پورہ سکیم میں سپورٹس کمپلیکس بنانے کا بھی اعلان کیا اور گرلز ہائی سکینڈری سکول میں گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد کلاسیں شروع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے پل اور مغلپورہ کے قریب سڑک کو کشادہ کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے علاقے میں پانی کے مسئلے کے حل کے لئے مختصر اور طویل المدت منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کی۔