پاکستان اور امریکہ میں 2015ءتک نیٹو سپلائی کی بحالی کا معاہدہ‘ کولیشن سپورٹ فنڈ کے 1.1 ارب ڈالر جلد دیں گے: ہوگلینڈ

پاکستان اور امریکہ میں 2015ءتک نیٹو سپلائی کی بحالی کا معاہدہ‘ کولیشن سپورٹ فنڈ کے 1.1 ارب ڈالر جلد دیں گے: ہوگلینڈ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان اور امریکہ نے نیٹو سپلائی کی2015 ءتک بحالی کے معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں۔ اس حوالے سے ایک تقریب وزارت دفاع راولپنڈی میں منعقد ہوئی، ایڈیشنل سیکرٹری دفاع وائس ایڈمرل فرخ احمد اور پاکستان میں متعین امریکہ کے ناظم الامور اور قائم مقام سفیر رچرڈ ہوگ لینڈ نے معاہدے کی دستاویز پردستخط کئے۔ وزارت دفاع نے اس اہم معاہدے کے بارے میں رسمی بیان جاری کرنا بھی گوارا نہیں کیا لیکن امریکی سفارتخانہ نے میڈیا کو اپنا سرکاری بیان ارسال کیا۔ پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے اپنی حتمی سفارشات میں قراردیاتھا کہ کوئی بھی معاہدہ منظوری سے پہلے کمیٹی کوارسال کیا جائے گا۔ متعلقہ وزیر پارلیمنٹ میں اس معاہدے کے بارے میں پالیسی بیان جاری کرے گا اس کے بعد معاہدہ طے پائے گا لیکن مذکورہ معاہدے کے ضمن میں کوئی تقاضا پورا نہیں کیا گیا۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد سیکرٹری دفاع آصف یاسین ملک نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کیلئے ہرممکن اقدام کر رہا ہے۔ پاکستان امریکہ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔ معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان مختلف امور میں شفافیت آئیگی۔ یہ معاہدہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان طے پایا ہے۔ افغانستان میں فوجی اتحاد جس میں نیٹو بھی شامل ہے رکن ملکوں کے ساتھ بعدازاں یہ معاہدہ کیا جائے گا۔ سمجھوتے کے مطابق نیٹو کنیٹنرز میں اسلحہ گولہ بارود لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں پاکستان کو معاہدہ منسوخ کرنے کا اختیار ہو گا۔ امریکہ کو سپلائی زمینی راستے سے کی جائیگی جبکہ دیگر ممالک سے بعد میں سپلائی کی بحالی کے لئے معاہدہ کیا جائیگا۔ دونوں ملک افغانستان میں موجود نیٹو افواج کو نیٹو سپلائی معاہدے کے تحت صرف ادویات اور کھانے پینے کا سامان لے جانے کی اجازت ہو گی جبکہ نیٹو کنٹینرز کی پورٹ قاسم پر ہینڈلنگ کے دوران سکیننگ لازمی ہو گی۔ مفاہمت کی یادداشت کے تحت دونوں ممالک نے نیٹو سپلائی کی مانیٹرنگ کے لئے دوطرفہ دفاتر قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ اسلحہ سمیت 24 اشیا کی ترسیل پر پابندی عائد کی گئی ہے، دونوں ممالک کے حکام ہر دو ماہ بعد یادداشت پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گے۔ دستاویز کے مطابق افغانستان جانے والے تمام کنٹینرز پر جدید ترین ٹریکنگ سسٹم نصب ہو گا، نیٹو کنٹینرز میں جانے والے تمام سامان کی جامع چیکنگ ہو گی۔ ایم او یو میں پاکستان کے مفادات کا بھرپور تحفظ کیا گیا ہے۔ معاہدہ میں نیٹو سپلائی پرکوئی فیس یا ٹیکس نہیں رکھا گیا۔ اس موقع پر رچرڈ ہوگ لینڈ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت پاکستان کی پارلیمنٹ کی طرف سے طلب کردہ زیادہ خودمختاری اور شفافیت کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یادداشت افغانستان کی مدد کیلئے پاکستان اور امریکہ کے عزم کی نشان دہی کرتی ہے ہم باہمی دلچسپی اور باہمی احترام کی بنیادوں پر ان اہداف کے حصول کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دیرپا تعلقات، سٹریٹجک اور احتیاط سے طے شدہ تعلقات ہونے چاہئیں جو نہ صرف دونوں ملکوں بلکہ پورے خطہ کے مفاد میں ہوں۔ قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر کا کولیشن سپورٹ فنڈ جلد جاری کردیا جائے گا۔ اپکستان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق غیر مسلح فوجی گاڑیاں لے جانے کی اجازت ہو گی۔ آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین اکرم درانی نے کہا ہے کہ جب تک ٹھوس گارنٹیاں فراہم نہیں کی جاتیں سپلائی کے لئے گاڑیاں نہیں چلائیں گے۔