نئی انتخابی فہرستیں جاری:8 کروڑ 43 لاکھ 65 ہزار ووٹروں کا اندراج‘ ملک بچانے کے لئے غیرمتنازعہ الیکشن ضروری ہیں: چیف الیکشن کمشنر

نئی انتخابی فہرستیں جاری:8 کروڑ 43 لاکھ 65 ہزار ووٹروں کا اندراج‘ ملک بچانے کے لئے غیرمتنازعہ الیکشن ضروری ہیں: چیف الیکشن کمشنر

اسلام آباد (خبرنگار+ بی بی سی+ این این آئی) چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم نے آٹھ کروڑ 43 لاکھ 65 ہزار 51 ووٹروں پر مشتمل نئی انتخابی فہرستیں جاری کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے، آئندہ انتخابات غیر متنازع نہ ہوئے تو ملک ”لولا لنگڑا“ ہو جائےگا کیونکہ شفاف انتخابات کے بغیر اب کوئی چارہ نہیں، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور میڈیا کی ذمہ داری ہے اب بھی انتخابی فہرستوں میں کوئی نقائص موجود ہیں تو ان کی نشاندہی کریں تاکہ انتخابات تک ان غلطیوں کو درست کیا جاسکے ، الیکشن کمشن کا تمام ڈیٹا فول پروف ہے اور کسی غیر متعلقہ شخص تک اس کی رسائی نہیں الیکشن کمشن کا کوئی ملازم اس ڈیٹا کا غلط استعمال کریگا تو نئے قانون کے تحت اسے پانچ سال قید کی سزا دی جائیگی۔ الیکشن کمشن کے ارکان جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی پنجاب، جسٹس ریٹائرڈ فضل الرحمن (بلوچستان) اور جسٹس ریٹائرڈ شہزاد اکبر خان (خیبر پی کے )، سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد اور چیئرمین نادرا طارق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا آج سے انتخابی کام شروع ہوگیا ہے، ماضی کی باتیں بھول جائیں اس مرتبہ ایسے انتخابات ہونگے کہ کوئی اس پر انگلی نہیں اٹھا سکے گا، انہوں نے کہا انتخابی فہرستیں حتمی ضرور ہیں مگر اس میں تبدیلی ہوسکتی ہے، ووٹر کی عمر اٹھارہ سال کر دی گئی ہے جو بہت بڑی بات ہے ، انتخابات سے قبل اٹھارہ سال تک پہنچنے والے جو افراد اپنا شناختی کارڈ بنوائیں گے ان کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہو جائیگا اور یہ عمل عام انتخابات کے انعقاد تک جاری رہے گا۔ سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد نے کہا ووٹر لسٹیں ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں رکھوا دی گئی ہیں،کوشش ہے انتخابی فہرستوں کو یونین کونسل کی سطح پر آویزاں کریں، سیکرٹری الیکشن کمشن نے بتایا الیکشن کمشن بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے پہلے بھی تیار تھا اور اب بھی تیار ہے، چالیس لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کے نام ووٹر لسٹوں میں شامل کئے ہیں ، اب انہیں پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا حق دینے پر غور کیا جا رہا ہے اس کیلئے قانون میں ترمیم کرنا پڑے گی، اکتیس مئی تک جن لوگوں کے پاس بھی نادرا کا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ تھا ان کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے، اب یہ قانون سازی کی گئی ہے کسی ووٹر کے شناختی کارڈ کی مدت ختم ہوچکی ہے تو وہ اسی شناختی کارڈ کی بنیاد پر ووٹ ڈال سکے گا، انتخابی فہرستوں میں مردوں کا تناسب 57 فیصد جبکہ خواتین کا 43 فیصد ہے۔ انہوں نے بتایا آئندہ الیکشن موجودہ حلقہ بندیوں پر ہی ہوں گے۔ مردم شماری کے لئے سمری مشترکہ مفادات کی کونسل کو ارسال کی جا چکی ہے جس پر فیصلہ کونسل نے کرنا ہے تاہم مردم شماری ہونے کی صورت میں اس کی رپورٹ دسمبر 2013ءتک آئے گی۔ انہوں نے کہا بلوچستان کے 32لاکھ 78ہزار 1سو 64افراد کو انتخابی فہرستوں میں شامل کیا گیا ہے جبکہ فاٹا 16لاکھ 75ہزار 9سو 67، فیڈرل ایریا 6لاکھ 4ہزار 8سو 2، خیبر پی کے 1کروڑ 20لاکھ 64ہزار 5سو 97، پنجاب 4کروڑ 83لاکھ 8ہزار 6سو 44اور سندھ میں 1کروڑ 84لاکھ 32ہزار 8سو 77افراد کو انتخابی فہرستوں میں شامل کیا گیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق نئی ووٹر فہرست میں پنجاب کے ووٹرز کی تعداد ستاون فیصد بنتی ہے جبکہ سندھ کے 22فیصد، خیبر پی کے 14فیصد، بلوچستان 4فیصد، فاٹا 2فیصد، وفاقی علاقے کے ووٹرز کی تعداد ایک فیصد بنتی ہے۔