لوڈ شیڈنگ: مظاہرے‘ توڑ پھوڑ جاری ‘ سینٹ میں اے این پی ‘ متحدہ کا دوسرے روز بھی احتجاج

لوڈ شیڈنگ: مظاہرے‘ توڑ پھوڑ جاری ‘ سینٹ میں اے این پی ‘ متحدہ کا دوسرے روز بھی احتجاج

لاہور (نیوز رپورٹر+ نمائندگان+ نوائے وقت نیوز) بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا، توڑپھوڑ کی گئی اور واپڈا دفاتر کو آگ لگا دی گئی۔ بجلی کا خسارہ 64سومیگاواٹ تک پہنچ گیا جس پر شہروں اور دیہات میں لوڈشیڈنگ کا دروانیہ 14سے 20گھنٹے تک پہنچ گیا۔ لاہور میں 5مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ گلشن راوی میں مظاہرین نے لیسکو کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور سامان اور فائلیں جلا ڈالیں۔ لکی مروت میں بدترین لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کے بعد مشتعل مظاہرین نے لکی شہرمیں ایس ڈی او پیسکو آفس اور گاڑی کو آگ لگا دی جبکہ شہر بھر میں بجلی و گیس میٹر توڑ دیئے اور ٹرانسفامروں کو شدید نقصان پہنچایا۔ دنگا فساد کے دوران تین افراد زخمی ہوئے۔ مظاہرین نے سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچاےا۔ انہوں نے نادرا آفس پر بھی پتھراﺅ کیا۔ نیشنل بنک کی مین برانچ پر بھی حملے کی کوشش کی اور اس کے بیرونی دروازے کے شیشے توڑ ڈالے۔ تتر خیل میں مظاہرین نے بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انڈس ہائی وے بلاک کردی۔ سرگودھا کے علاقے پھلروان میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف عوام کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا اور مظاہرین نے توڑپھوڑ کی۔ مظاہرین کی گرفتاریوں کیخلاف شہریوں نے تھانہ پھلروان کے سامنے احتجاج کیا جنہیں منتشر کرنے کیلئے پولیس نے شیلنگ کی۔ مظاہرین نے موٹر وے بلاک رکھی، لاٹھی چارج اور شینلگ سے کئی افراد زخمی ہو گئے۔ فیصل آباد، ملتان، پشاور اور دوسرے شہروں میں بھی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ادھر ننکانہ صاحب کے علاقہ سیدوالہ میں لوڈشیڈنگ کیخلاف مظاہرے میں واپڈا کے دفتر کو آگ لگانے اور توڑپھوڑ کے الزام میں دو سو افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ چارسدہ میں بجلی کی بندش پر اے این پی کے کارکنوں نے واپڈا کیخلاف تحصیل بازار میں احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ میکلوڈ گنج میں پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔ ملکہ ہانس میں تحریک انصاف کے زیراہتمام ریلی نکالی گئی۔ شورکوٹ کینٹ میں شدید گرمی سے ایک شخص لطیف جاں بحق ہوگیا جبکہ دو بچوں سمیت 3 افراد بیہوش ہوگئے۔ چارسدہ میں مظاہرین نے موٹر وے بلاک کر دی اور سرکاری سائن بروڈ توڑ ڈالے، اٹک میں مظاہرین نے اسلام آباد پشاور موٹر وے بند کر دی۔ میانوالی میں جلوس نکالا گیا اور واپڈا آفس کالاباغ پہنچ کر وہاں پر موجود کھڑی موٹر سائیکلوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا اس پر واپڈا اہلکار مشتعل ہو گئے اور انہوں نے خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور دھکے دئیے، خواتین نے دفتری سامان کی توڑ پھوڑ شروع کر دی، شیشے توڑ دئیے اور وہاں موجود ٹاےپ رائٹر، اور فرنیچر توڑ ڈالا اور واپڈا کے خلاف زبر دست نعرے بازی کی۔ لاہور میں باغبانپورہ اور ساندہ میں ٹائر جلاکر شہریوں اور تاجروں نے احتجاج کیا، بھیکے وال موڑ، گلشن بلاک کے صارفین نے مون مارکیٹ کے سامنے شدید احتجاج کیا جس کی وجہ سے دوپہر 4گھنٹے تک ٹریفک جام رہی۔ مزنگ میں بھی شہریوں نے شدید احتجاج کیا۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق لوڈشیڈنگ سے سینکڑوں روزہ دار مشتعل ہو گئے اور واپڈا کے خلاف زبردست احتجاجی جلوس نکالا۔ مظاہرین نے گرڈ سٹیشن اور واپڈا کے دفاتر کا گھیراﺅ کئے رکھا اور نعرے بازی کی جبکہ نواحی گاﺅں جنبوگالہ میں 80سالہ خاتون روزہ افطاری کے دوران گرمی کے باعث جاں بحق ہو گئیں۔ بچیکی سے نامہ نگار کے مطابق لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 21گھنٹے سے تجاوز کرنے پر عوام کا بُرا حال ہو گیا۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف گوجرانوالہ میں دو احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ پہلا مظاہرہ عالم چوک کے قریب شہریوں نے کیا اور حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی۔ دوسرا احتجاجی مظاہرہ مبارک شاہ روڈ پر کیا گیا جہاں درجنوں افراد نے قمیض اٹھاکر بدترین گرمی میں گیپکو کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ اس موقع پر مظاہرین نے ٹائر جلاکر سینہ کوبی بھی کی۔ شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق لوڈشیڈنگ کے خلاف شیخوپورہ کے شہری پھر سراپا احتجاج بن گئے اور فیصل آباد روڈ شرقپور چوک میں ٹائروں کو آگ لگاکر شیخوپورہ فیصل آباد اور شرقپور روڈ بلاک کر دی مظاہرین نے وفاقی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + نیوز ایجنسیاں) سینٹ اجلاس میں حکومت کو اپنے دو بڑے اتحادیوں عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کی طرف سے بجلی بحران پر منگل کو دوسرے روز بھی احتجاج اور شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آﺅٹ کر گئے ۔ اے این پی نے حکومت کو دھمکی دی کہ وہ لوڈشیدنگ کے معاملہ پر پیپلز پارٹی کی اندھی حمایت نہیں کر سکتی۔ لوڈ شیڈنگ کی بدترین صورتحال پر صدر کی تعریفیں نہیں کر سکتے۔ سینٹ کا اجلاس منگل کو چیئرمین نیئر حسین بخاری کی صدارت میں شروع ہوا تو ایوان میں اے این پی اور ایم کیو ایم نے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف ایوان میں شدید احتجاج شروع کر دیا۔ دوسری طرف اپوزیشن مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں کے ارکان نے ان دونوں جماعتوں کے ارکان سے کہا کہ ابھی بھی ان کے پاس وقت ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کا ساتھ چھوڑ کر اپنی دنیا اور آخرت سنوار لیں۔ اے این پی کے سینٹر زاہد خان نے کہا کہ اب ہم حکومت کا مزید ساتھ نہیں دے سکتے اور یہ نہیں ہو سکتا کہ اگر صدر غلط بات کہیں تو ہم اس پر تالیاں بجاتے رہےں۔ اس کے بعد اے این پی کے ارکان واک آﺅٹ کر گئے۔ بلوچ سینٹرحاصل بزنجو نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ وزرا اور متعلقہ محکموں کے حکام کی عدم حاضری پر چیئرمین سینٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمے کے اعلیٰ حکام اپنی حاضری یقینی بنائیں ورنہ سخت کارروائی کی جائےگی۔ ایم کیو ایم کے سینےٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ حکومت سرچارج کے نام پر بھتہ خوری کر رہی ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ طاہر مشہدی روزے میں سچ بول گئے، انہیں اپنی قیادت کو بھی سچ بتانا چاہئے۔ جے یو آئی (ف) کے سینیٹر حاجی غلام علی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کے وزراءتو مساجد میں جاتے نہیں انہیں کیا پتہ کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے نمازوں کے دوران نمازیوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔