لاپتہ افراد پر کمیٹی کااجلاس، رحمن ملک کو شرکت نہ کرنے پر توہین پارلیمنٹ کا نوٹس

لاپتہ افراد پر کمیٹی کااجلاس، رحمن ملک کو شرکت نہ کرنے پر توہین پارلیمنٹ کا نوٹس

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے لاپتہ افراد نے اجلاس میں عدم شرکت پر وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک اور سیکرٹری داخلہ کو توہین پارلیمنٹ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کر دیئے ‘کمیٹی اپنے چیئرمین کا فیصلہ نہ کرسکی ۔ خصوصی کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر اور کمیٹی کے رکن سید خورشید شاہ کی زیرصدارت منگل کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا جس میں کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب ہوناتھاتاہم کمیٹی کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے رکن عبدالقادر بلوچ کو چیئرمین بننے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ میرے کچھ اپنے ایشوز ہیں اس لئے میں کمیٹی کا چیئرمین نہیں بن سکتا جس پر کمیٹی کے ارکان نے کہاکہ لاپتہ افراد کا کیس قومی سلامتی کمیٹی بھی دیکھ رہی ہے تو یہ معاملہ انہی کے سپرد کر دیا جائے جس پر جے یو آئی (ف) کے مولانا عطاءالرحمن نے کہاکہ اگر کمیٹی قائم نہیں کرنی تو ہمیں کیوں بلایا گیا ہے جس پر مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم نے مولانا عطاءالرحمن کو کمیٹی کا چیئرمین منتخب کرنے کی تجویز پیش کی۔ وفاقی وزیر مذہبی امور خورشید شاہ نے کہاکہ وہ رمضان کے بعد اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر کے کمیٹی کا اجلاس دوبارہ طلب کریں گے۔ جب کمیٹی کی جانب سے پوچھا گیا کہ وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ کہاں ہیں تو بتایا گیا کہ وہ مصروف ہیں نہیں آ سکے۔ کمیٹی کے استفسار پر بتایا گیا کہ جوائنٹ سیکرٹری کمیٹی میں آئے ہیں جس پر سید خورشید شاہ نے وزیر داخلہ رحمن ملک اور سیکرٹری داخلہ صدیق اکبر کیخلاف توہین عدالت کے نوٹسز جاری کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔