رمضان میں مہنگائی کا حکومتی ”تحفہ“ پٹرول 7.67‘ ڈیزل4.78‘ مٹی کا تیل 4.46روپے لٹر مہنگا‘ایل پی جی کی قیمت19 روپے کلو بڑھ گئی

رمضان میں مہنگائی کا حکومتی ”تحفہ“ پٹرول 7.67‘ ڈیزل4.78‘ مٹی کا تیل 4.46روپے لٹر مہنگا‘ایل پی جی کی قیمت19 روپے کلو بڑھ گئی

 اسلام آباد + لاہور (نوائے وقت رپورٹ + سٹاف رپورٹر + ایجنسیاں) حکومت نے رمضان المبارک میں عوام کو مہنگائی کا ”تحفہ“ دیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کے نوٹیفکیشن جاری کر دئیے ہیں۔ اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے مطابق پٹرول سات روپے 67 پیسے فی لٹر مہنگا کر دیا گیا۔ اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 93 روپے 57 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی۔ ڈیزل چار روپے 58 پیسے مہنگا ہونے کے بعد نئی قیمت 101 روپے 79 پیسے ہو گی، ہائی اوکٹین سات روپے 64 پیسے مہنگا کیا گیا ہے۔ نئی قیمت 120 روپے 16 پیسے ہو گی۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں چار روپے 64 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 92 روپے 83 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل چار روپے 78 پیسے فی لٹر مہنگا کیا گیا ہے۔ نئی قیمت 90 روپے 11 پیسے فی لٹر ہو گی۔ دوسری جانب اوگرا کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق خیبر پی کے، بلوچستان اور پوٹھوہار میں سی این جی کی فی کلو قیمت میں .20 7 روپے فی کلوگرام تک اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد ان علاقوں میں سی این جی کی قیمت 85.67 فی کلوگرام ہو گی جبکہ پنجاب اور سندھ میں سی این جی کی قیمت میں 6.06 روپے فی کلو گرام اضافہ کیا گیا ہے جس سے ان علاقوں میں سی این جی 78.08 روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت کی جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج سے ہو گیا ہے۔ لاہور سے سٹاف رپورٹر کے مطابق سعودی آرمکو کی قیمت میں 173 ڈالر فی میٹرک ٹن اضافے کے بعد ایل پی جی کی قیمت میں 19 روپے کلو اضافہ کر دیا گیا۔ ایل پی جی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ترجمان بلال جبار کے مطابق نئے اضافے کے بعد گھریلو سلنڈر کی قیمتیں 223 اور کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 860 روپے کا اضافہ ہو جائیگا، نئی قیمتیں آج یکم اگست سے نافذالعمل ہونگی۔پنجاب میں ایل پی جی 125، سندھ 115، خیبر پی کے اور آزاد کشمیر میں 130، شمالی علاقہ جات میں 140 روپے فی کلو ہو جائے گی۔ مزید برآں حکومت کی طرف سے پٹرول کی قیمت میں اضافے کے پیش نظر لاہور کے اکثر پٹرول پمپوں نے ”سیل بند ہے“ کے بورڈ لگا کر صارفین کو مایوس لوٹانا شروع کر دیا جس کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار اور بعض گاڑیوں والے ایک سے دوسرے پٹرول پمپ کے درمیان فٹ بال بنے خوار ہوتے رہے اور حکمرانوں کو کوسنے سناتے دکھائی دئیے۔ بعض پمپوں نے پٹرول کی راشننگ کر کے اس کی فروخت جاری رکھی جس کی وجہ سے وہاں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، پٹرولیم ڈیلرز ایسوایسی ایشن کے سیکرٹری اطلاعات خواجہ عاطف کا کہنا ہے شیل، کالٹیکس، ٹوٹل پارکو اور پی ایس او نے اپنے آئل ڈپو بند کر دئیے ہیں اور پٹرول کی قلت کی ذمہ داری آئل کمپنیوں پر عائد ہوتی ہے ڈیلرز پر نہیں۔ مزید برآں ڈی سی او لاہور نے مصنوعی قلت پیدا کرنیوالے پٹرول پمپوں کی چیکنگ کیلئے 8 ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں جو پٹرول فروخت نہ کرنیوالے پمپوں کو سیل کر دیں گی۔ بچیکی میں تیل کی مصنوعی قلت پیدا کر کے پٹرول پورا دن 110 اور ڈیزل 112 روپے فی لٹر فروخت کیا۔ آئی این پی کے مطابق لاہور کے مختلف مقامات پر شہریوں نے پٹرول پمپس پر حکومت کے خلاف احتجاج کیا جبکہ سینکڑوں افراد کو پٹرول پمپس پر ہی روزہ کھولنا پڑا۔ لاہور میں کوئنز روڈ، گڑھی شاہو، مزنگ، فیروزبور روڈ، اچھرہ، مون مارکیٹ، سبزہ زار، شالیمار ٹا¶ن اور اپر مال سمیت بہت سے علاقوں میں انتظامیہ نے پٹرولیم مصنوعات کی سیل بند کر دی۔ ملک بھر میں پٹرول پمپوں پر صورتحال بہت تکلیف دہ رہی، لوگوں کو پٹرولیم مصنوعات میسر نہ ہونے کی وجہ سے سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا، اکثر پٹرول پمپوں پر عملے اور کسٹمرز میں تلخ کلامی ہوئی۔