دوسرے وزیراعظم کو بچانا چاہتے ہیں: وکیل وفاق‘ توہین عدالت قانون میں کچھ بھی غلط نہیں والا حکومتی موقف درست نہیں: چیف جسٹس

دوسرے وزیراعظم کو بچانا چاہتے ہیں: وکیل وفاق‘ توہین عدالت قانون میں کچھ بھی غلط نہیں والا حکومتی موقف درست نہیں: چیف جسٹس

 اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + آن لائن + آئی این پی) سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت جاری ہے جس کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ آمریت کو کندھا نہ دیا جائے تو جمہوریت چلتی رہے گی، حکومت کا یہ کہنا درست نہیں کہ نئے قانون میں کچھ غلط نہیں۔ منگل کو جب چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی تو وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ نے دلائل شروع کئے، اس مقدمہ میں نئے قانون کے خلاف درخواست گذار وکلا اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں، وفاق کے وکیل شکور پراچہ کا م¶قف تھا کہ آئین نے پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار دیا، پارلیمنٹ کے اس اختیار کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا، نئے قانون میں عدالتی اختیار کو کم نہیں کیا گیا، توہین عدالت قانون کیخلاف دائر درخواستیں ناقابل سماعت ہیں، پارلیمنٹ اور عدلیہ میں تصادم کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آمریت کو کندھا نہ دیا جائے تو جمہوریت چلتی رہے گی، کالا کوٹ ملک میں انقلاب لے کر آیا، ججز کے پاس کلاشنکوف نہیں ہوتی، سول سوسائٹی، میڈیا، وکلا اسے مضبوط کرتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے بات کرنے کی اجازت چاہی تو عدالت نے کہا کہ وفاق کے وکیل کو دلائل مکمل کرنے دئیے جائیں۔ وفاق کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے توہین عدالت کے نئے قانون سے عدلیہ کے کسی اختیار پر قدغن نہیں لگی۔ اس موقع پر بینچ میں شامل جسٹس میاں شاکر اللہ جان نے کہا کہ توہین عدالت کے نئے قانون میں مراعات یافتہ طبقے کو استثنیٰ دے کر حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے قانون اس لحاظ سے امتیازی ہے چیف جسٹس نے وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ سے کہا کہ آپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ توہین عدالت کی دفعہ 12 غلط ہے اس کے بعد بھی وفاقی حکومت کیسے کہہ سکتی ہے کہ یہ عوامی اہمیت کا معاملہ نہیں ہے۔ آپ نے تسلیم کر لیا ہے کہ نئے قانون میں استثنیٰ دینے والی شق درست نہیں۔ اس قانون کو صرف عام افراد نے نہیں بلکہ پاکستان بارکونسل نے بھی یہ قانون چیلنج کیا ہے۔ عبدالشکور کا کہنا تھا کہ کبھی میڈیا والے کسی کو بڑا بناتے ہیں، کبھی جج، کبھی جنرل اور کبھی حکمران کسی کو بڑا بنا دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اختیارات سے تجاوز ہو تو پھر ایسے ہی ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے ایک شعر کا معروف مصرعہ پڑھتے ہوئے کہا کہ وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر یہ معاملہ عوامی اہمیت کا حامل نہیں تو پھر توہین عدالت قانون کے تحت ہی سابق وزیراعظم گیلانی نااہل ہوئے۔ اگر وفاقی حکومت یہ کہے کہ نئے قانون میں کوئی خرابی نہیں ہے تو یہ درست نہیں۔ ہم نے قانون کی عمل داری میں بہت سے مثالیں قائم کی ہیں۔ وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ نے کہا کہ عدلیہ نے ریمارکس دئیے تو اپوزیشن لیڈر نے شور مچا دیا جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے اپنا اظہار خیال کیا۔ شور مچانے والی بات مناسب نہیں۔ وفاق کے وکیل نے کہا کہ یہ کیس ہائیکورٹ کو بھیج دیا جائے انہوں نے کہا کہ الیکشن ہو رہے ہیں عدالت احتیاط کرے۔ ثناءنیوز کے مطابق چیف جسٹس ایک موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ توہین عدالت کا قانون وزیراعظم کو بچانے کے لئے بنایا گیا ہے۔ نوائے وقت نیوز کے مطابق وفاق کے وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا مکمل اختیار ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کے قواعد بنانے کا اختیار عدلیہ کے پاس ہے۔ ایک موقع پر وفاق کے وکیل شکور پراچہ نے کہا کہ میرا م¶قف ہے کہ یہ مقدمہ ہائیکورٹ کو بھجوا دیا جائے۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں تمام درخواستیں پانچوں ہائیکورٹس کو بھجوا دیں۔ ہر ہائیکورٹ مختلف فیصلہ دے اور نیا پنڈورا بکس کھل جائے۔ اپوزیشن شور نہیں مچاتی وہ اپنا اظہار خیال کرتی ہے۔ عوام کو اپنے رکن پارلیمنٹ سے توقع ہو گی کہ وہ ووٹ کے ذریعے رائے دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے تحت قانون کے قواعد بنانے کا اختیار عدالت کے پاس ہے۔ قواعد کا اختیار وفاقی حکومت کو دینے کا اختیار کہاں سے لیا گیا؟ وفاق کے وکیل نے کہا کہ ابھی ہدایات لینی ہیں عدالت سماعت ایک دن کیلئے ملتوی کر دے۔ اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ کیا میں بات کر سکتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ابھی بیٹھیں وفاق کے وکیل کو جواب دینے دیں۔ عرفان قادر نے کہا کہ پاکستان بار کونسل کو تو سُن لیا اس کے چیئرمین (اٹارنی جنرل) کو نہیں سنتے۔ جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ آپ تو ہمارے دوست ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ غلطی ہوتی ہے لیکن اس کی درستگی بھی ہونی چاہئے۔ نئے قانون میں اس قانون کو 3 بار ختم کیا جا رہا ہے جو پہلے سے ہی ختم ہے۔ وفاق کے وکیل نے کہا کہ الیکشن ہونے والے ہیں عدالت احتیاط کرے۔ جسٹس تصدق جیلانی نے استفسار کیا کہ کیا آپ ہمیں بریکنگ نیوز دے رہے ہیں؟ وفاق کے وکیل نے کہا کہ درخواست گذاروں نے نہیں بتایا کہ کون سی اسلامی تعلیمات متاثر ہوئیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ درخواست گذار کہتے ہیں کہ مساوات کا اصول متاثر ہوا۔ ایک مراعات یافتہ طبقہ بنایا گیا۔ وفاق کے وکیل نے جواب دیا کہ کسی سے غیر مساوی سلوک ہو تو ایسے قانون کو یقیناً ختم ہونا چاہئے۔ وفاق کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا صدر کا آئینی استثنیٰ برقرار رہ سکتا ہے ؟ وفاق کے وکیل نے کہا کہ اگر نبی نے کسی کو کسی پر برتری نہیں دی تو قاضی یہ برتری کیسے دے سکتا ہے۔ اسلام نے استثنیٰ نہیں دیا تو پھر صدر کو آئینی استثنیٰ کالعدم کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس تصدق جیلانی نے ریمارکس دئیے کہ کیا قانون کی تشریح کیلئے آئین کے ابتدائیہ کو استعمال کیا جا سکتا ہے؟ وفاق کے وکیل نے جوا ب دیا جی! بالکل استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ریاستی عہدے داروں کو اعتماد ہونا چاہئے کہ مجسٹریٹ سے لیکر ہر عدالت تک انصاف ملے گا۔ پارلیمنٹ، عدلیہ اور انتظامیہ کے اپنے دائرہ کار ہیں۔ عدالت اپنے دائرہ سماعت کو چاہے توسیع دے لیکن ریاستی اداروں کو امور چلانے کی آزادی ہونی چاہئے۔ توہین عدالت قانون میں مسئلہ یہ ہے کہ وزیراعظم اور ریاست کا ایک عضو معطل ہو گیا۔ یہ قانون اسی لئے لائے ہیں کہ آپ دوسرا وزیراعظم بھی فارغ نہ کر دیں۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ وزیراعظم کو 30 سیکنڈ کی سزا ہوئی تھی کوئی عضو معطل نہیں ہوا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ٹھیک ہے ہم لکھ دیتے ہیں اس قانون کو لانے کے پیچھے ایک مقصد ہے۔ وفاق کے وکیل نے جواب دیا کہ یہ مقصد نیک نیتی پر مبنی ہے۔ وفاق کے وکیل نے کہا کہ سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں اپنا کام آئین کے مطابق کرنا ہے۔ آرٹیکل 9 اور 25 کا نفاذ نہیں ہو رہا اسے نافذ کریں۔ ملک میں بجلی پانی نہیں اس سے ہمارا کیا کام ہے۔ شکور پراچہ نے کہا کہ کرپشن ایک دن میں ختم نہیں ہوتی کوئی دوڑ کر پہاڑ پر نہیں چڑھ سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کیا باتیں کر رہے ہیں آپ قانونی دلائل پر رہیں۔ شکور پراچہ نے کہا کہ قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کا اختیار چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔آئین نے پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار دیا۔ قانون میں عدالتی اختیار کو کم نہیں کیا گیا۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ میں تصادم کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ شکور پراچہ نے کہا کہ ایک وقت تھا ضیاءالحق کو بٹھایا گیا کہ دیکھو کون نمازیں پڑھتا ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون نمازیں پڑھا رہا ہے اور کون نہیں، سیاسی باتیں نہ کریں۔