ارسلان افتخار نظرثانی کیس: لارجر بنچ بنانے کی درخواست مسترد‘ سپریم کورٹ نے نیب کو کل تک تحقیقات سے روک دیا

ارسلان افتخار نظرثانی کیس: لارجر بنچ بنانے کی درخواست مسترد‘ سپریم کورٹ نے نیب کو کل تک تحقیقات سے روک دیا

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + نوائے وقت نیوز) سپریم کورٹ نے ارسلان افتخار نظرثانی کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو 2 اگست تک تحقیقات سے روک دیا۔ جبکہ نیب کی طرف سے لارجر بنچ بنانے کی نیب کی درخواست مسترد کر دی۔ گزشتہ روز جسٹس جواد خواجہ اور جسٹس خلجی عارف پر مشتمل بنچ نے سماعت کی۔ نیب نے سماعت کےلئے لارجر بنچ تشکیل دینے کی درخواست کر دی۔ جسٹس خلجی نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہاں انصاف کےلئے بیٹھے ہیں۔ درست فیصلہ کرنا ہے۔ کسی تنقید سے نہیں ڈرتے۔ نواز شریف کیس کا جو حوالہ دیا اس میں لارجر بنچ تشکیل دینے کی کیا وجہ تھی؟ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ نیب تو اس کیس میں فریق ہی نہیں ہے اس کی لارجر بنچ میں کیا دلچسپی ہے؟ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ معاملہ عوامی اہمیت کا ہے لارجر بنچ بننا چاہئے۔ جسٹس جواد نے ریمارکس دئیے کہ عدالت نے ریاست کی مشینری کو حرکت میں لانے کیلئے کہا تھا نیب کو تحقیقات کیلئے کیسے منتخب کیا گیا؟ ارسلان کے وکیل سردار اسحاق نے کہا کہ ملک ریاض کی عدالت میں پہلے روز پیشی کے موقع پر ایس پی رورل فیصل میمن فرمانبردار ملازم کی طرح چپکے رہے۔ اس موقع پر عدالت نے ملک ریاض کی سپریم کورٹ میں پیشی کی فوٹیج منگوا لی۔ ایس پی رورل فیصل میمن کو عدالت میں کھڑا کرکے فوٹیج دکھائی گئی۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ اور فیصل میمن کی وضاحت آنے دیں پھر کل کیس سنیں گے ابھی تو ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری کی درخواست کی بھی سماعت کرنی ہے۔ سپریم کورٹ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو کل تک تحقیقات سے روک دیا۔ پراسیکسوٹر جنرل نیب نے عدالت کے عبوری حکم پراعتراض کیا جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ 2 دن میں کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی۔ زاہد بخاری نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو کی کیا صداقت ہے قانون شہادت میں ایسی ویڈیو کا طریقہ کار ہوتا ہے۔ ویڈیو کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ ارسلان افتخار کی درخواست پرنوٹس کے بغیر ویڈیو کا انتظام کیسے کیا گیا؟ فوٹیج کے بارے میں ارسلان کے وکیل کو کیسے معلوم تھا؟ جسٹس خلجی عارف نے زاہد بخاری سے کہا کہ عدالت کوحکم لگوانے دیں ایسے جملے مت بولیں جن سے بعد میں آپ کو تکلیف ہو۔ عدالتی حکم جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ عدالت نے اپنے حکم میں زاہد بخاری کے اعتراضات نوٹ کئے۔ جب ہم نے حکم امتناعی جاری کیا تو زاہد بخاری نے اعتراضات اٹھائے۔ اعتراضات کا جواب بہت آسان ہے فاضل وکیل آگاہ نہیں کہ عدالت نے نوٹس جاری کئے تھے ملک ریاض کے پروٹوکول کے بارے میں سیکرٹری داخلہ کو 25 جولائی دوبارہ پوچھا گیا۔ مزید سماعت 2 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔میڈیا سے گفتگو میں سردار اسحاق نے کہا ہے کہ منصفانہ فیصلے کے لئے عدالت کوئی بھی حکم جاری کر سکتی ہے، نیب نے اپنی مرضی کے تمام ارکان کا انتخاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جج پہلے کہہ چکے ہیں کہ ملک ریاض کے ساتھ ایسے لوگ آئے تھے جن کی سکیورٹی کلیئرنس نہیں تھی۔