دُور سے دیدۂ امید کو ترساتا ہوں

ایڈیٹر  |  فرمان اقبال
دُور سے دیدۂ امید کو ترساتا ہوں

دُور سے دیدۂ امید کو ترساتا ہوں
کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتا ہوں
سَیر کرتا ہوں جس دم لبِ جو آتا ہوں
بالیاں نہر کو گرداب کی پہناتا ہوں
(بانگِ درا)