فراغت دے اسے کارِ جہاں سے

ایڈیٹر  |  فرمان اقبال

فراغت دے اسے کارِ جہاں سے
کہ چُھوٹے ہر نفَس کے امتحاں سے
ہوا پیری سے شیطاں کُہنہ اندیش
گناہِ تازہ تر لائے کہاں سے!
(ارمغانِ حجاز)