(بالِ جبریل)

خودی کی خلوتوں میں گم رہا میں
خدا کے سامنے گویا نہ تھا میں
نہ دیکھا آنکھ اٹھا کر جلوہ ¿ دوست
قیامت میں تماشا بن گیا میں!
(بالِ جبریل)