کررہا ہے آسماں جادُو لبِ گفتار پر

کررہا ہے آسماں جادُو لبِ گفتار پر

کررہا ہے آسماں جادُو لبِ گفتار پر
ساحرِ شب کی نظر ہے دیدہ¿ بیدار پر
غوطہ زن دریائے خاموشی میں ہے موجِ ہوا
ہاں‘ مگر اک دُور سے آتی ہے آوازِ دَرا
(بانگِ درا)