ہر نفَس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں

ہر نفَس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات
مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے
(ارمغانِ حجاز)