عصرِ حاضر کے تقاضاﺅں سے ہے لیکن یہ خوف

عصرِ حاضر کے تقاضاﺅں سے ہے لیکن یہ خوف

عصرِ حاضر کے تقاضاﺅں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں
الحذَر! آئینِ پیغمبر سے سَو بار الحذر
حافظِ ناموسِ زَن‘ مرد آزما‘ مرد آفریں
(ارمغانِ حجاز)