کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا

کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا

کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا
کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا
وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک
اس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا
(بالِ جبریل)