لذت ِ قربِ حقیقی پر مٹا جاتا ہوں میں

لذت ِ قربِ حقیقی پر مٹا جاتا ہوں میں

لذت ِ قربِ حقیقی پر مٹا جاتا ہوں میں
اِختلاطِ موجہ و ساحل سے گھبراتا ہوں میں
دانہ¿ خرمن نما ہے شاعرِ معجز بیاں
ہو نہ خرمن ہی تو اس دانے کی ہستی پھر کہاں
(بانگِ درا)