مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے

مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے

مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے
وہ دشتِ سادہ‘ وہ تیرا جہانِ بے بنیاد
خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں
وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد
(بالِ جبریل)