باغ بہشت سے مجھے حکمِ سفردیا تھا کیوں

باغ بہشت سے مجھے حکمِ سفردیا تھا کیوں

باغ بہشت سے مجھے حکمِ سفردیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے، اب مرا انتظار کر
روزِ حساب جب مرا پیش ہو دفترِ عمل
آپ بھی شرمسار ہو،مجھ کو بھی شرمسار کر
بالِ جبریل