عطائیت کیخلاف انسداد ی مہم

عطائیت کیخلاف انسداد ی مہم

ہمارے معاشرے کے جو روگ ہیں ان میں عطائیت بھی شامل ہے۔ عطائیت بیمار لوگوں کے علاج معالجہ کاایک ہتھکنڈے جیسے کچھ لوگ ‘ جعلی معالج‘ نیم حکیم اورنام نہاد ڈاکٹر بن کر لوگوں پرآزماتے اور ان سے مال بٹورتے ہیں۔یہاں ایسے طبقات کی کمی نہیں جو 21ویں صدی میں بھی جہالت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے گزشتہ دنوں دعویٰ کیاہے کہ سال 2015 میں پنجاب کا ہر وہ بچہ جو سکول جانے کی عمر کا ہوگا۔  وہ کسی نہ کسی سکول میں داخل ہوگا۔ اول تو سکولوں میں داخلہ نہیں دلا سکیں گے  چالیس فیصد آبادی اپنے بچوں سے نوعمر میں ہی روزی روٹی کمانے میں تعاون کی طلب گار ہوتی ہے معاشرہ ایسا ہے کہ یہاںکوئی کام مفت نہیں ہوتا ۔اس وقت پورے ملک میں بڑے بڑے ہسپتال بنے ہوئے ہیں،اس کے باوجود ملک میں عطائیت کاراج ہے۔ پورا معاشرہ جعلی ڈاکٹروں ‘ نیم حکیموں اورنام نہاد عطاروں‘ پیروں اور فقیروں کے ٹوٹکوں ‘ ان کی خودساختہ ادویات‘ اور ان ادویات کے استعمال کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع کی تصویر بناہوا ہے۔ڈی سی او نے  اس شہر کوخوبصورت بنانا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے ارد گرد انتہائی نااہل اور گھنائونے افراد کی کمیٹیاں بنارکھی ہیں جن کے غیر اہم اور غیر متوازن مشوروں سے وہ اس شہر کے فنڈز کا ضیاع کرتے نظرآتے ہیں۔ انہوںنے اس شہر کا چہرہ سنوارنے کے آج تک بہت سے دعوے کئے لیکن وہ کینال روڈز کی کشادہ تعمیر کے علاوہ شہر کیلئے کوئی خاطرخواہ ترقیاتی کام نہیں کرسکے گزشتہ دنوں انہوں نے  جعلی ڈاکٹروں ‘ عطائیوں اور نام نہاد حکیموں اورمعالجوں کی گرفتاریوں اورمیڈیکل سٹوروں پرفروخت کی جانے والی زائد المعیاد اورجعلی دوائیوں کی فروخت کیخلاف چھاپہ مار کارروائیاں کرنے کی مہم چلا رکھی ہے۔ 156 عطائی معالجوں کے خلاف کارروائی‘ گرینڈ آپریشن سے بعض عطائی ڈاکٹرز اور حکیموں کے کلینکوں اور مطبوں پرچھاپے مار کارروائیوں کاآغاز کیاگیاہے۔ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے اپریل کے پہلے پندرہ دنوں میں عطائی افراد کیخلاف آپریشن میں489 سے زائد عطائی لوگوں کے کلینک بند کئے ہیں۔ ان میں سے156 عطائی ڈاکٹروں کیخلاف تادیبی کارروائی شروع ہے ۔ ڈی سی او نور الامین مینگل کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس شہر میں ایسی مڈوائف اور دائیوں کی بھی ایک بہت بڑی تعدادہے جو گھروں میں  زچگی کے مسائل حل کراتی ہیں اس جاہل اور غریب  طبقہ جو مہنگی لیڈی ڈاکٹروں سے اپنی خواتین کی زچگی اور اپنے بچوں کی ولادت نہیں کرواسکتا وہ مڈوائف خواتین اور دائیوں کے رحم و کرم پر ان کے آگے ڈال دیتاہے،ان کے ذریعے جن بچوں کی ولادت کرائی جاتی ہے ان میں سے پچاس فیصد پہلے ہفتہ عشرہ میں موت کانوالہ بن جاتے ہیںجن خواتین کومڈ وائفوں اوردائیوں کے ہاتھوں کی چھریوں سے بہت سے دیدہ نادیدہ زخم لگائے جاتے ہیں‘ان میں سے بھی ایک تہائی عورتیں موت کی وادی میں اتر جاتی ہیں۔فیصل آباد ڈویژن کے چاروں اضلاع میں مڈ وائف اور دائیوں کے ایسے گروپس ناجائز کاموں میں ملوث ہیں جس وجہ سے اکثر شہروں اور قصبوں میں بعض نومولود بچوں کی نعشیں مل جاتی ہیں۔ فیصل آباد کے مختلف علاقوں سے نوزائیدہ بچوں کی نعشیں ملتی رہتی ہیں۔ ڈی سی او نورالامین نے ضلع میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144کے تحت عطائی و جعلی ڈاکٹروں حکیموں کی میڈیکل پریکٹس اورغیر مستند سٹاف کے ذریعے ہسپتال وکلینکس چلانے اور بلا لائسنس ادویات کی فروخت پر فوری پابندی عائد کردی ہے ،انہوںنے ڈرگ انسپکٹرز کو بھی الرٹ کردیاہے لہٰذا وقتی طور پر عطائی ڈاکٹروں نے اپنے کلینک اور مطب بندکردیئے ہیں۔ صدر تحصیل فیصل آباد اور تحصیل جڑانوالہ میں چھاپہ مارٹیم کی نگرانی ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر رانا وقار صادق نے خود کی ہے جس سے پہلی مرتبہ عطائی ڈاکٹروں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے ، فیصل آباد ڈویژن کے چاروں ضلعی ہیڈکوارٹر میں عطائیت کیخلاف چھاپہ مار کارروائیوں کی ضرورت ہے۔  جھنگ شہر میں عطائیت کے ہاتھوں بہت سے قیمتی جانوں کے اتلاف کی خبریں شائع ہوئی تھیں۔عطائیت کی ایک قسم جعلی پیروں اور جادو ٹونے کرنے والوں کی صورت میں بھی موجود ہے۔ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد نے مرکزی قبرستان سمندری سے جادو ٹونے کی غرض سے ایک خاتون کی میت قبر سے نکال کر اس پر کوئی کالاعمل کیاہوا تھا اور وہ بعد میں کفن میں لپٹی اس میت کو کھلا چھوڑ کر روپوش ہوگئے تھے۔ اگلے روز قبرستان آنے جانے والوں کو اس باقت کا علم ہوا تو یہ بات پولیس کے عمل میں لائی گئی تھی۔ پولیس نے تفتیش کے بعد اس میت کو دوبارہ غسل دلوایا اور نئے کفن کے ساتھ دفن کر ادیا۔ اس قسم کے واقعات اکثرقبرستان سے قبروں سے نکال کر چوری کی جانے والی نعشوں کے حوالے سے سامنے آتے رہتی ہیں۔ ڈی سی او فیصل آبادکو عطائیت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ضلع کے لوگوں کو جادو ٹونے سے لوگوں کے اولاد اور نرینہ اولاد کے مسائل حل کرانے کے دعوے داروں کیخلاف بھی تحقیقات کرانی چاہئے۔ پنجا ب کے دوسرے شہروں میں بھی جعلی ڈاکٹروں اور حکیموں کی میڈیکل پریکٹس پر فوری طورپر پابندی لگنی چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ بغیر لائسنس چلنے والے میڈیکل سٹور بھی بند ہونے چاہئیں۔اخبارات میں متعدد دوسروں شہروں میں بھی عطائی ‘ڈاکٹروں ‘ دائیوں اور عطائی حکیموں کے کارروائیوں کاتقاضا کیاگیاہے۔ تفصیل کے مطابق ساہیوال ڈویژن کے متعدد شہروں اور دیہات میں عطائیت کا دھندا پورے عروج پرہے اوراکثرمضافاتی علاقوں میں بہت سے عطائی افراد‘ ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کے ناموں کے بورڈ آویزاں کرکے سادہ لوح عوام کی جان ومال سے کھیل رہے ہیں۔ ان سرجیکل ہسپتالوں میں ان پڑھ اور ناتجربہ کار عطائی ڈاکٹروں اور دائیوں کی وجہ سے درجنوں افراد کی زندگیاں ختم ہوچکی ہیں۔