بابل کی دہلیز پر بیٹھی لڑکیاں کب تک جہیز کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی؟

بابل کی دہلیز پر بیٹھی لڑکیاں کب تک جہیز کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی؟

شادی ایک سماجی بندھن ہے جو کسی عورت اور مرد میں طے پاتاہے اورمختلف مذاہب میں مرد اور عورت کے مابین اس قسم کے بندھن کو قائم کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ اسلام میں یہ بندھن باقاعدہ نکاح کی صورت میں مکمل ہوتاہے۔پاکستان میں شادیوں کو جہیز کی لنعت نے بہت حدتک مذموم بنادیاہے۔اسلام مسلمانوں کے حسن سلوک سے پھیلا اور صدیوں کے سفر میں ہزاروں لاکھوں ہندو گھرانوں نے اسلام قبول کیا اور لڑکیوں کو بیاہ شادی کے موقع پر والدین کے گھر تحفے تحائف میں ملنے والی اشیاء کو لڑکی کے جہیز کانام دے دیاگیا  آہستہ آہستہ  جہیز کاسامان بنانا ایک روایت بن گیا اس طرح اکثر والدین کیلئے لڑکیوں کی شادی ایک مشکل کام بن گیا، اکثرمتمول والدین اپنی بیٹیوں کو کئی کئی ٹرکوں میں لدھے ہوئے سامان کی صورت میں جہیز دیتے ہیں۔ اسلام میں بیٹی کو باپ اور والدہ کی جائیداد میں بیٹوں کے مقابلے میں نصف جائیدا دکاوارث بنایاگیاہے لیکن ہمارے معاشرے میں ایک طرف تو لڑکیوں کیلئے جہیز کی تیاری والدین کو ہزاروں پاپڑ بیلنے پڑتے ہیںاکثر والدین تو بیٹیوں کا جہیز بناتے بناتے اپنے گھروں تک کو فروخت کردیتے ہیں اس کے باوجود باپ یاماں کی وفات پر کوئی بھی لڑکی ان کی چھوڑی ہوئی جائیداد میں‘ اپنے بھائیوں کے مقابلے میں نصف حصہ کی حقدار ٹھہرتی ہے۔
 جہیز ہمارے معاشرے میں ایک سماجی ضرورت بن گیاہے۔ لڑکے کے والدین  رشتہ کرنے کیلئے خود جہیز کامطالبہ کرنے لگے ہیں۔  سامان کی فہرست تھما دی جاتی ہے۔ بڑے گھروں کی لڑکیوں سے کار اور کوٹھی بلکہ کارخانے تک کامطالبہ کردیتے ہیں جبکہ متوسط طبقے میں جہیز کامطالبہ اس قدر رواج پاچکاہے کہ ہر سو شادیوںمیں بمشکل ایک شادی ایسی ہوگی کہ لڑکے کے والدین کی طرف سے جہیز کاکوئی مطالبہ نہ کیاگیا ہو اور ہر پانچ سو شادیوں میں سے ایک شادی ایسی ہوگی کہ دلہا کی طرف سے دلہن کے گھر سے جہیز لینے سے صاف انکار کردیاگیا ہو۔جہیز کے باعث ‘ اکثر گھرانوں میں لڑکیاں والدین کی چوکھٹ پر پڑی بوڑھی ہوجاتی ہیں۔کیونکہ والدین غریب ہوتے ہیں‘ وہ لڑکی کیلئے آنے والے رشتوں کو محض اس لئے قبول نہیں کرتے کہ ان  کے ساتھ جہیز کے سامان کی فہرستیں بھی آتی ہیں جن کو قبول کرنا ان کیلئے ممکن نہیں ہوتا ا س طرح ان لڑکیوں کی جوانیان کی دلہن بننے کی حسر تیں دل میں ہی رہ جاتی ہیں۔ جہیز کے نام پرلڑکیوں کے والدین کے لٹنے کے واقعات اس قدر زیادہ رونما ہوتے ہیں کہ ان کوشمار کرناممکن نہیں رہتا لیکن ‘ بعض معاملات میں الٹی گنگا بھی بہتی ہے کہ کچھ لوگوں کوشادی کیلئے لڑکیوں کے رشتے نہیں ملتے اور وہ کچھ ایسے والدین سے ان کی بیٹیوں کے رشتے‘ اپنی گرہ سے جہیز کے سامان کے لئے رقوم رقوم دینے کی شرط پر قبول کرلیتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر شریف اور سفید پوش لوگ اپنے ہونے والے دامادسے اپنی بیٹی کی شادی کے اخراجا ت لے کر ‘ ملنے والی رقوم سے لڑکیوں کا جہیز اور بارات کے طعام و اخراجات کیلئے رقوم قبول کرلیتے ہیں کسی کو معلوم نہیں ہونے دیتے۔کچھ لوگوں نے  بڑی رقوم بٹورنا باقاعدہ شعار بنایاہواہے۔ ان کی لڑکیاں‘ ان کے والدین کو جہیز کیلئے ملنے والی رقوم سے بننے والا جہیز کا سامان اپنے دلہا کے ہاں منتقل ہونے سے پہلے پہلے اپنے سسرال میں پھڈا کرکے واپس آجاتی ہیں اور ایسی لڑکیوں نے حق مہر میں بھی بھاری رقوم لکھوائی ہوتی ہے لہٰذا ‘ وہ مختلف حیلوں بہانوں سے طلاق حاصل کرلیتی ہیں اوربھاری حق مہر وصول کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ اپنے لڑکوں کو بار بار کنوارہ ظاہر کرکے‘ ان کی  کئی شادیاں کرکے‘ ہر ملنے والے جہیز سے اپنے گھر چلاتے ہیں جبکہ والدین کاایک ایسا طبقہ بھی سامنے آگیاہے جو جہیز اور بارات کے طعام و استقبال کیلئے لاکھوں روپے وصول کرنے کیلئے پہلے تو شہر میں کوئی نہ کوئی گھر خریدتاہے اور ازاں بعد ‘ شادی کی تاریخ سے پہلے پہلے  غائب ہوجاتاہے۔ فیصل آباد میں چند ہفتے پہلے ایک بارات ایسی آئی کہ جسے دلہن کے گھر پرتالہ لگا ہوا ملا تھا۔ یہ بارات چنیوٹ سے آئی تھی۔لڑکی والوں نے جہیز کیلئے لڑکے سے اڑھائی لاکھ روپے لئے تھے  جب شادی کی تاریخ مقرر ہوگئی تو دلہن کا گھرانہ‘ نودو گیارہ ہوگیا۔ ماموں کانجن کے نواحی گائوں میںمتذکرہ بالا واقعہ کے برعکس شادی کے روز دلہا پراسرار طورپر غائب ہوگیا۔ ولایت نامی یہ لرکا گھر سے بیوٹی پارلر پرتیارہونے کیلئے گیا۔دلہن کے گھر میں دلہا اور اس کی بارات کاانتظار ہوتا رہا۔ معلوم ہوا ہے کہ لڑکی اس لڑکے سے محبت کرتی تھی اور لڑکا بظاہر شادی کیلئے اس لئے آمادہ نہیں ہورہاتھا کہ وہ شایان شان انداز میں بارات لے کرآنے سے قاصر تھا۔دلہن کے والدین نے اس کو ‘ لڑکی کے جہیز کے علاوہ‘ چار پانچ لاکھ روپے پیشگی اداکئے تھے۔ دلہا میاں کئی روز گزر جانے کے باوجود لوٹ کر واپس نہیں آئے اور کہاجارہاہے کہ وہ ملنے والی رقم کسی ایجنٹ کو دے کر دوبئی چلاگیاہے۔ گزشتہ دنوں تھانہ ڈی ٹائپ کالونی کے علاقہ منڈی کوارٹر میں کم جہیز لانے کے تنازعہ پر سسرالیوں نے ایک خاتون صائمہ پر تشدد کرکے زخمی کردیا۔ یہ تشدد اس کے شوہر راشد‘ سسر عبدالرشید‘ دیور محمد افضل اور دو نندوں شازیہ اور رفعت نے مل کرکیاتھا۔ زخمی ہونے کے بعد اس نئی نویلی دلہن کو الائیڈہسپتال میں داخل کرادیاگیا۔ ہسپتال میں وہ دم توڑگئی۔ ملزموںکے مطابق صائمہ اور راشد کی محبت کی شادی تھی جس کی وجہ سے صائمہ کے والدین نے اسے چھوڑ دیاتھا اور دلبرداشتہ ہو کر اس نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی تھی۔چنیوٹ کے ایک گائوں میں نوجوان نے ایک لڑکی سے شادی کی محبت کی اس شادی میں لڑکی کے والدین کی طرف سے اجازت نہیں تھی لہٰذا  یہ جوڑا گھر سے بھاگ گیا ،لڑکی کے والدین جوبااثر لوگ تھے بیٹی کے وٹے میں پنچائیت کی اجازت سے لڑکی کو بھگا کر لے جانیوالی لڑکی کے بھائی سے نکاح کروایا۔اس کے بھائی نے پانچ دنوں تک پنچائیت کے فیصلے سے ملنے والی اس دلہن کو اپنے ساتھ رکھااور جب اس کا دل بھر گیا تو اس نے بہن کے وٹے میں ملنے والی اپنی اس دلہن کو طلاق دے کر اپنے حقیقی چچا سے اس کانکاح کردیا۔ اس دوسرے نکاح کے لئے اس لڑکی کو اپنے بھائی کے سالے سے ملنے والی طلاق کے بعد عدت بھی پوری نہیں کرنے دی۔اس کے پنچائیت کے فیصلے سے بننے والے شوہر کے چچا نے دس پندرہ روز لڑکی کودلہن بنا کر رکھاازاں بعد اس نے بھی اسے طلاق دے دی ،لڑکی کو اپنے چار مسٹنڈے دوستوں کے حوالے کردیا جو کئی دنوں تک اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرتے رہے، شوہر نے اس کو عریاں حالت میں  حویلی کے سامنے ایک درخت سے باند ھ دیا ۔ قانون حرکت میں آیاتھا لیکن لگتا ہے کہ بااثر ملزموں نے لڑکی والوں پر دبائو ڈال کرمعاملہ رفع دفع کرادیاہے۔ جنڈانوالہ کی ایک 8سالہ معصوم لڑکی تسلیم کو اپنے بھائی نصر اللہ کی محبت کی شادی کے بدلے میں اپنے بھائی کی دلہن کے چھوٹے بھائی 13سالہ پرویز کی دلہن بنادیاگیا۔گویا پنچائیت نے تسلیم کو پرویز کے ساتھ ونی کردیاتھا جب یہ شادی ہورہی تھی کسی نے پولیس کو اطلاع کردی دلہا سمیت اس کے گھر کے چیدہ چیدہ افراد کو گرفتار کرلیا۔ نوشہرو فیروزکے ایک پچاس سالہ شخص محمد علی نے ایک بارہ سالہ لڑکی سونیا شاہ کے والد کو ایک لاکھ روپے دے کراسے زبردستی اپنی دلہن بنالیاہے۔