منشیات مافیا اور پاکستان کا مانچسٹر

منشیات مافیا اور پاکستان کا مانچسٹر

فیصل آباد میں منشیات کا دھندا قیام پاکستان کے بعد سے ہو رہا ہے۔ ابتداء میں شہر میں چرس، افیون، الکوحل، دیسی اور ولایتی شراب، نسوار وغیرہ نشے کے لئے فروخت ہوتی تھیں اور یہاں باقاعدہ ٹھیکیدار ہوتے تھے۔ 1980ء کے عشرے میں افغانستان پر سویت یونین کے حملے کے نتیجے میں آئے افغان مہاجرین نے پاکستان میں منشیات فروشی کے دھندے کو اس حد تک فروغ دیا کہ ایک باقاعدہ نیٹ ورک قائم ہو گیا۔ سمگل کرنے والوں کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ پنجاب کے بڑے شہروںکا راستہ اختیار کریں۔ اس عشرے میں بھی فیصل آباد میں یہ دھندا عروج پر رہا شہر میں ایک بدنام زمانہ شخص نے منشیات سمگلر کے طور پر شہرت حاصل ہوئی اور یہ شخص بعد میں پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ ازاں بعد بھی ۔ گذشتہ ایک عشرے کے دوران منشیات کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ منشیات کے استعمال نے اس شہر کے اکثر گلی کوچوں میں انسانی جہازوں کو اڑان عطا کی ہے۔ ہیروئن اور چرس کے سفوف کو سگریٹ کے تمباکو میں ملا کر پینے والوں کی تعداد اس شہر اور ضلع میں  ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے جن میں آٹھ دس ہزار کے لگ بھگ خواتین بلکہ شہر کی جامعات اور گرلز کالجوں کی طالبات بھی شامل ہیں۔ چند سال پہلے گورنمنٹ کالج جڑانوالہ کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کو طلباء میں منشیات فروشی کے الزام میں پکڑ کر اس پر مقدمہ چلایا گیا تھاجس میں ان پر یہ الزام ثابت ہو گیا۔ شہر کے ایک معروف گرلز کالج کی ایک درجہ چہارم کی ملازمہ اپنے شوہر کے ہمراہ مل کر طالبات کو پڑیوں کی لت میں مبتلا کرتی رہی۔ اس کا شوہر سگریٹ فروش تھا۔ ان دنوں بعض پان و سگریٹ فروش ہیروئن اور افیون ملے پان ،سگریٹ فروخت کر رہے ہیں۔بعض میڈیکل سٹوروں پر سے راکٹ کارڈ، جہاز کارڈ اور مارفین کے انجکشن خریدنے والوں کا ایک اپنا سرکل موجود ہے۔ فروخت کرنے اور خریدنے والوں کے مابین اعتماد اور بھروسے کا رشتہ قائم ہے۔ بھارت سے سمگل شدہ تمباکو اور گٹکا بھی مختلف پیکٹوں میں ملتا ہے۔ ولایتی شراب اور بیئر کی بوتلیں شہر کے فائیوسٹار ہوٹل سے پرمٹ ہولڈر حاصل کرتے ہیں اور بعدازاں سرعام فروخت کرتے نظر آتے ہیں ،کرسچین برادری کے  48سو افراد کے پرمٹ ہیں جن میں 15سو مسیحی خواتین بھی شامل ہیںاس طرح چار ہزار آٹھ سو افراد نے اپنے اپنے غیرمسلم ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پرمٹ بنوا رکھے ہیں۔دو ماہ پہلے پنجاب اسمبلی کے ایک اقلیتی رکن نے اس امر کا اعتراف کیا تھا کہ اپنے مالی حالات کی تنگی اور کم آمدنی کے باعث اکثر پرمٹ ہولڈر کرسچین شراب افورڈ نہیں کرتے۔ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے خریدتے ہیں اور ا سے کاروبار بنائے ہوئے ہیں  اگر حکومت تعاون کرے تو شراب کے پرمٹ ہولڈروں کو دوسرے کاروبار شروع کرنے کے لئے آسان شرائط پر قرضوں کا اجراء کر کے پرمٹ منسوخ کئے جا سکتے ہیں۔
 برطانیہ میں شراب نوشی پر پابندی نہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں شراب نوشی سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 24فیصد ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق ان ہلاکتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ پاکستان میں گذشتہ ماہ ’’یوم انسداد تمباکونوشی‘‘ منایا گیا تو اس مرحلے پر تمباکو پینے سے ہلاکتوں کے جو اعدادوشمار سامنے آئے وہ انتہائی خوفناک ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ سے زیادہ لوگ تمباکونوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ دس سال سے 24سال کی عمر کے تقریباً 18لاکھ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تمباکونوشی کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار  ہیں۔ گذشتہ دنوں شہر کے ایک معروف معالج اور نامور فزیشن سے سگریٹ نوشی اور منشیات کے استعمال کے مضراثرات پر گفتگو ہو ئی کہ جو شخص مستقل نشہ کرتا ہے وہ اپنی طبعی عمر سے بہت پہلے اس جہان فانی سے کوچ کر جاتا ہے اور زندگی میں اکثر و بیشتر ایسے افراد اپنے ہوش و حواس بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ نشہ کرنے والا جب  نشہ کا عادی ہو جاتا ہے تواپنا مقصد حیات کھو دیتا ہے اور نشے کے حصول کو ہی مقصود زندگی بنا لیتا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک مریض کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ یہ تیس سالہ نوجوان ان کے زیرعلاج ہے۔ نشہ نے اس کی زندگی تباہ کر دی،اب ان دنوں اسے اپنی زندگی کے غیرطبعی انداز میں ختم ہونے کا احساس ہو چکا ہے اور اس نے نہایت توجہ سے اس لت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ٹھان لی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ لڑکا شہر کی ایک معروف یونیورسٹی میں ایم ایس سی کا طالب علم ہے ۔ یوں تو ہر قسم کا نشہ انسانی صحت کے لئے مضر ہے لیکن ہیروئن کا استعمال بطور خاص ہلاکت خیز ہے۔ نشہ کرنے والا انسان جہاں اخلاقی برائیوں کا شکار ہوتا ہے وہاں اسے معاشرتی پسماندگی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت ملک میں منشیات کے مریضوں کی بحالی کے ہسپتالوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بات ایک طرح سے اطمینان بخش بھی ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو دوبارہ زندگی کی طرف لانے کی مثبت کوششیں ہو رہی ہیں۔ لیکن ان ہسپتالوں میں  آئے روز اضافہ ہوا ہے۔ منشیات استعمال کرنے والوں کو جگر، کینسر، ایڈز اور پھیپھڑوں کے امراض لاحق ہو جاتے ہیں ،جب  نشے کے عادی انسان کا نشہ پورا نہیں ہوتا تو نوبت خودکشی تک پہنچ جاتی ہے۔ کچھ  نشہ کے حصول کی دھن میں اپنی بیوہ ماؤں کے لئے ایک مستقل اذیت بنے ہوئے ہیں۔ گلبرگ کے ایک لڑکے نے جو پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ اپنی بیوہ ماں اور بڑی بہنوں کے لاڈ پیار سے بگڑ کر خود کو ہیروئن کا نشہ کرنے کی لت لگا لی تھی۔ لگ بھگ گیارہ سال پہلے تو اس نے اپنی بڑی بہنوں کے جہیز کے لئے بنائے گئے زیورات اور سامان گھر سے چوری کر کے فروخت کیا اور آخر میں گھر کے برتن تک فروخت کر دیئے۔ جب ماں بہنوں نے اسے روکنے کے لئے سمجھا بجھا کر کمرے میں بند کر دیا تو اس نے گھر میں موجود ایک چھری اٹھا کر ا پنے پیٹ میں کھونپ دی۔ اس کو ہسپتال لے جانے تک بہت زیادہ لہو بہہ گیا اور وہ اپنی بیوہ ماں اور پانچ بہنوں کو بین کرتے چھوڑ کر اس جہان فانی سے رخصت ہو گیا۔ منشیات کا استعمال کسی لعنت سے کم نہیں ہے۔ نشہ معاشرے کا جان لیوا روگ ہے لیکن شاید ہمارے ہایں اس روگ سے بچنے کے لئے اور نئی نسل کو اس سے بچانے کے لئے خاطرخواہ کوششیں نہیں ہو رہیں۔