ملاوٹ کے ذریعے موت بانٹنے کا کاروبار

ملاوٹ کے ذریعے موت بانٹنے کا کاروبار

ملاوٹ شدہ اور غیرمعیاری پانی کے استعمال سے سٹی ڈسٹرکٹ فیصل آباد کا ہر چوتھا شخص ہیپاٹائٹس یا گیسٹرو کے مرض میں مبتلا نظر آتا ہے۔  شہر میں جو دودھ سپلائی ہوتا ہے اس میں بھی دودھ فروش جس پانی کو ملاتے ہیں وہ بھی معیاری نہیں، پھر وہ دودھ کو گرمی کی شدت میں گھروں میں سپلائی تک محفوظ رکھنے کے لئے اس میں جس برف کا استعمال کرتے ہیں وہ برف بھی مضرصحت پانی ہے۔ فروخت ہونے والا دودھ شہر کے مضافات سے مختلف دودھ فروشوں، گوالوں اور بعض اداروں کے ذریعے سپلائی ہوتا ہے اور دودھ میں سے مکھن اور کریم نکالنے کا دھندا شہر میں اس قدر عام ہے کہ اکثر دودھ فروش اور گوالے دودھ میں سے مکھن اور کریم نکلوا کر اس کی قیمت الگ وصول کر لیتے ہیں اور کریم نکلے دودھ میں مختلف قسم کے پوڈر، خشک دودھ اور سنگھاڑوں کا آٹا مکس کر کے اسے دوبارہ گاڑھا کر لیا جاتا ہے اور اس طرح دودھ کے ذریعے گھر گھر مختلف بیماریاں سپلائی کی جاتی ہیں۔یہ شکایت بھی عام ہے کہ سائنس دانوں نے ایسے ٹیکے ایجاد کر لئے ہیں کہ دودھ دوہنے سے پہلے اگر دودھ دینے والے جانور کو ایک ٹیکا لگا دیا جائے تو دودھ کی مقدار بڑھ جاتی ہے لیکن یہ دودھ ایک طرف اس جانور کی زندگی کو چاٹ جاتا ہے اور دوسری طرف اس کو استعمال کرنے والے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ای ڈی ہیلتھ کو شہر میں فروخت ہونے والے دودھ کے معیار اور اس میں سے ملاوٹ مافیا کے کردار کو کم کرنے پر لازمی نظر رکھنی چاہیے۔ مال و دولت کی حرص میں ہمارے ہاں تو ادویات سازی میں بھی ملاوٹ کا عنصر شامل کر دیا جاتا ہے۔ سٹی ڈسٹرکٹ فیصل آباد کے اکثر علاقوں میں چائے کی جعلی پتی بنتی ہے۔ ہلدی اور لال مرچ کی پسوائی کے دوران ان میںمکسنگ کی جاتی ہے۔ اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کے حوالے سے شہر میں جو گوشت فروخت ہوتا ہے اس میں بھی بالعموم پانی مکس کردیا جاتا ہے۔ گذشتہ دنوں ویٹرنری ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے مختلف قصابوں کا گوشت چیک کرنے کے لئے اچانک چھاپے مارے اور ایک سو سے زائد قصابوں کے چالان کر کے ان کو جرمانے کئے یا جیل بھیجا گیا کہ ان کی دکانوں پر فروخت ہونے والا گوشت صحت کے اصولوں سے ہم آہنگ نہیں تھا۔ اس میں پانی مکس تھا۔ بہرحال اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کے نتیجے میں بعض طالع آزما شہر میں موت بانٹ رہے ہیں جنہیں روکنا ارباب اختیار کے لئے لازم ہے۔