خواتین کے حقوق کی بات آسان مگر عمل مشکل

خواتین کے حقوق کی بات آسان مگر عمل مشکل

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی خواتین وزراء جو وزارتوں کا قلمدان اپنے پاس رکھتی ہیں مختلف تقریبات کے موقع پر پچاس فیصد آبادی خواتین کے حقوق اور اختیارات کے حوالہ سے جو سہانے خواب دکھاتی ہیں  نئی قانون سازی کا حوالہ دیتی ہیں تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ جس مہذب معاشرہ کی تشکیل کے لئے اسلام ہدایات دیتا ہے اس پر حکومت تیزی سے عمل پیرا ہے اور خواتین کو مساوی حقوق دینا حکومت کا منشور اور دستور العین ہے جبکہ عورت کے ساتھ صدیوں سے ہونے والے ظلم و جبر کو مرد کی حکمرانی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں عملاً مرد کی حکمرانی ہے اور مرد اپنی حکمرانی کا ثبوت فراہم کرتے کبھی  غیرت کے نام پر کبھی کوئی اور بہانہ بنا کر ظلم و جبر، وحشت و بربریت کی  لرزہ خیز داستانیں رقم ہیں ۔ پنجاب کی وزیر وومن ڈویلپمنٹ حمیدہ وحیدالدین نے گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین چنیوٹ میں ’’حکومت پنجاب کے خواتین کی فلاح و بہبود اور حقوق کے اقدامات‘‘ پر کہا کہ دس کروڑ روپے کی لاگت سے پنجاب کے مختلف شہروں میں ڈے کیئر سنٹر قائم کئے جا رہے ہیں مختلف سرکاری محکموں میں خواتین کی بھرتی کا کوٹہ پانچ فیصد سے بڑھا کر پندرہ فیصد کر دیا گیا ہے ان کی عمر میں بھی تین سال کا اضافہ کر دیا گیا ہے پنجاب بھر کے تمام ضلعوں میں روزگار بینک قائم کئے جا رہے ہیں۔ اس سے مراد کہ ایک زمانہ میں پہلے محکمہ روزگار ہوتا تھااب اسی محکمہ کا نام تبدیل کر کے روزگار بینک رکھ دیا گیا ہے۔ ڈے کیئر سنٹر میں ملازمت پیشہ خواتین اپنے بچوں کو ڈیوٹی اوقات میں ڈے کیئر چھوڑ جاتی ہیں اور ڈیوٹی سے فارغ ہو کر لیتی ہیں۔حمیدہ وحیدالدین کا کہنا ہے بڑے شہروں میں ورکنگ وومن ہاسٹلز بھی قائم کئے جا رہے ہیں تاکہ ملازمت پیشہ خواتین کو رہائش کی سہولت فراہم ہو لیکن انہوں نے اپنی پوری تقریر میں خواتین کے حقوق اور ان پر ہونے والے ظلم و ستم کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا اور خواتین کے حوالہ سے ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان جو ایک طویل عرصہ سے عزت و غیرت کی دہائی دیتے ہوئے نشانہ صرف خواتین کو ہی بنایا جاتا ہے اس کے سدباب کے لئے حکومت کون سی منصوبہ بندی اور قانون سازی کر رہی ہے اس پر ان کی زبان خاموش رہی۔ لیکن ہوتا یوں ہے کہ بیوی نے گوشت کی بجائے دال پکا دی تو خاوند نے اسی جرم میں بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور بڑے فخر کے ساتھ یہ بات کہی جاتی ہے کہ خواتین پر تشدد پاکستانی معاشرے میں کوئی نئی بات نہیںصدیوں پرانی روایت ہے، مرد اپنی بیوی پر تشدد کا حق رکھتا ہے۔ دنیا بھر کے تمام مذاہب میں خواتین پر چاہے وہ بیوی کا ہی درجہ رکھتی ہو تشدد کرنے کی اجازت نہیں۔ اسلام تو قطعی اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ کچھ عرصہ قبل چولہے بہت پھٹا کرتے تھے اور مٹی کے تیل کا چولہا پھٹتا تو ایک بہو کی موت واقع ہو جاتی۔ بہو کے گھر والوں کو علم ہوتا تھا کہ بہو کو کیسے مارا گیا لیکن انہیں اپنی دوسری بیٹیوں کے لئے یہ صدمہ برداشت کرنا پڑتا پھر زمانہ نے کروٹ لی اور گیس کا چولہا غلطی سے کھلا رہ جاتا، جیسے ہی بہو چولہا جلانے کے لئے دیاسلائی جلاتی تو دھماکہ ہوتا اور بہو منٹوں میں راکھ کا ڈھیر بن جاتی۔ حال ہی میں قانون کے رکھوالوں کے سامنے اور لاہور ہائیکورٹ کی عمارت کے اندر ایک تیس سالہ خاتون کو جو حاملہ تھی غیرت کے نام پر سنگسار کر دیا گیا۔ ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال غیرت کے نام پر ایک ہزار سے 9سو تک خواتین کو جرم بے گناہی میں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ ہماری پنجاب کی وومن ڈویلپمنٹ وزارت نے اس ضمن میں کون سی قانون سازی کے لئے اسمبلی میں کوئی بل پیش کیا۔ ہم خواتین کو ان کی دہلیز پر تعلیمی، سماجی، معاشرتی سہولتیں فراہم کرنے کے بڑے دلکش نعرے بلند کرتے ہیں لیکن اگر کوئی قانون بن بھی جاتا ہے تو اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ ڈے کیئر سنٹروں کا قیام ہمارے معاشرہ کا مزاج نہیں ہے ہم اپنے بچوں کو ایک پل کے لئے نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے۔ دادی، نانی، پھوپھی، موسی ہی بچوں کی نگرانی کرتی ہیں اور انہیں سنبھالتی ہیں۔ یہ مغرب کی تقلید ہے۔ مغرب میں تو عورت کو جو مساوی حقوق حاصل ہیں کیا ہمارا مرد معاشرہ اس کی اجازت دیتا ہے اگر خواتین کو واقعی حقوق دلانے ہیں تو پھر خواتین کو تعلیم کے تاج سے سرفراز کرنے کی ضرورت ہے تعلیم جو بیداری اور شعور کی دولت سے نوازتی ہے خواتین اس شعور اور بیداری کی بدولت اپنے حقوق خود چھین لیں گی اور آخر میں صرف ایک سوال کہ  غیرت صرف مرد میں ہوتی ہے عورت میں نہیں، یہ تصور ہی جہالت ہے غیرت عورت میں مرد سے زیادہ ہوتی ہے اور وہ مرد کی بے غیرتی پر محض اپنی عزت کے لئے اپنے لبوں پر تالے لگا لیتی ہے۔ اس لئے حمیدہ وحیدالدین اپنی وزارت سے ایسے بل لائیں جو حقیقی معنوں میں خواتین کے حقوق کے آئینہ دار ہوں۔