منظور وٹو کا 1970 کے انتخابی نتائج دینے کا اعلان

 احمد کمال نظامی
پنجاب پیپلزپارٹی کے صدر منظور وٹو نے اپنے دورہ فیصل آبادکے موقع پر دعویٰ کیا ہے کہ تخت لاہور کے شہزادوں کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کو ہے۔ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے اور پیپلزپارٹی وفاق کے ساتھ پنجاب میں بھی اکثریت حاصل کرے گی اور پنجاب پر آئندہ پیپلزپارٹی کا پرچم ہی لہراتا نظر آئے گا۔ میاںمنطور وٹو نے اصغرخان کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میاں برادران کے چہرے بے نقاب ہو چکے ہیں اور ہم قوم کی لوٹی ہوئی ایک ایک پائی وصول کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کارکن انتخابات کی تیاری کریں۔ صدر آصف علی زرداری نے مجھے جو ٹارگٹ دیا ہے اس پر پورا اتروں گا اور اب پنجاب میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے قیام کا کوئی راستہ نہیں روک سکتا۔ فیصل آباد کے انتخابی نتائج 70ءکے انتخابات کی یاد تازہ کر دیں گے۔ منظور وٹو ایک طرف تو یہ دعوے کرتے رہے جبکہ ددسری طرف پیپلزپارٹی کا گروہی انتشار بھی کھل کر سامنے آ گیا اور پیپلزپارٹی کے ایک گروپ نے منظوروٹو کے خلاف نعرہ بازی بھی کی لیکن منظور وٹوکے دورہ فیصل آباد کے موقع پر فیصل آباد کی کسی اہم شخصیت نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا اور مسلم لیگ(ن) کو جدہ سمیت کہیںپناہ نہیں ملنے کا دعویٰ کرنے والے سابق ناظمین کی حمایت سے بھی محروم رہے۔ میاںمنظور وٹو تو بڑے پیرصاحب کی چھتری تلے بیانات جاری فرما رہے ہیں کہ مسلم لیگ(ن)کو اب جدہ میں بھاگنے نہیں دیں گے لیکن جس تیزی کے ساتھ حالات کروٹ بدل رہے ہیں اس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میاںمنطور وٹو جو بڑے بڑے تبدیلی کے دعوے کر رہے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ بڑے پیر صاحب کے آستانہ کی بہاروں کو خزاں میں تبدیل کر دیں اور پنجاب میں پیپلزپارٹی کی بساط ہی نہ رہے۔پاکستان میں الیکشن نیوز کا عملاً آغاز ہو چکا ہے۔ کاش امریکہ کی طرح پاکستان میں بھی پرامن الیکشن رواج پکڑ لیں ۔اس وقت اصغرخان کیس ہی منظر پر چھایا ہوا ہے دوسری طرف کراچی میں یومیہ قتل و غارتگری کا جو بازار گرم ہے سینکڑوں انسانوں کا خون بہایا جا چکا ہے اور یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ ابھی کتنے اور بے گناہ اقتدار پرستوں کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔ ذرا اس پہلو پر غور کریں کہ جوں جوںالیکشن کا موسم قریب آ رہا ہے تب تب کراچی اور بلوچستان میں خون کی ہولی میں شدت پیدا ہو رہی ہے اور حیران کن بلکہ شرمناک بات ہے کہ پاکستان خون بنایا ہوا نظر آتا ہے۔ قوم سراپا احتجاج ہے مگر اس خون ریزی پر ذمہ داری نہ حکومت قبول کر رہی ہے نہ سیاسی پارٹیاں، سیکورٹی ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قبول کر رہے ہیں ۔ اب تو اس خون ریزی میں فرقہ واریت کا زہر بھی شامل کیا جا رہا ہے اور بعض افرادکے نزدیک تو اس تمام تر خون ریزی کے پس پردہ انتخابات سے فرار کے راستہ کی تلاش اور جمہوریت کے چیمپئن کی یہ سازش کارفرما ہے کہ ماضی کی طرح انہیں ”شہادت“ کا درجہ حاصل ہو جائے اور وہ عوام کو ایک بار اور دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جائیں لیکن اس بار نہ انہیں شہادت نصیب ہو گی اور نہ انتخابات کو التوا میں ڈالنے کا کوئی بہانہ ہاتھ آ سکے گا بلکہ انتخابات اپنے وقت پر ہوںگے اور پاکستان کی تاریخ میں یہ انتخابات حالات کا رخ ہی تبدیل نہیں کریں گے بلکہ حقیقی معنوں میں ایک نیا اور مستحکم پاکستان جنم لے گا اورانتخابات کے بعدوہ تمام خون ہاتھ بھی عوام کی نگاہوں کے سامنے ہوں گے جن سے ان دنوں لہو ٹپک رہا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے سربراہ میاں محمد نوازشریف نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ حکمران آئندہ حکومت کے لئے اقتدار کو کانٹوں کا بستر بنا رہے ہیں اور حکمران مجوزہ حکومت کے لئے بدامنی مہنگائی کا طوفان بھتہ خوری اور لوڈشیڈنگ چھوڑ کر جائیں گے۔ یہ وہ حقائق ہیںجن سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا اس وقت یہ حیران کن بات نہیں کہ پاکستان میں خواہ کسی بھی جگہ لاش پر لاش گر رہی ہے اور کراچی کا ہر گھر مزار شہید کا منظر پیش کر رہا ہے ، حکمران پارٹی اور اس کی اتحادی پارٹیاں اصغرخان کیس کی گردان کرتے ہوئے ذرا نہیں شرما رہیں۔ حالانکہ اصغر خان کیس کے فیصلے نے نئے مواقع اور نئی جہتوںکو جنم دیا ہے لیکن یہ نئے مواقع اور نئی جہتیں ان کے لئے ہوتی ہیںجن کی سوچ اور فکر قومی مفادات کے گرد گھومتی ہو۔ حکمران جن میں مسلم لیگ(ن) بھی شامل ہے اس فیصلے کو صرف سیاسی مفاد حاصل کرنے کےلئے استعمال کریں گے اور مسلم لیگ(ن) کی قیادت پر کوڑے برسانے اور انہیں سیاسی طورپر ڈس کریڈٹ کرنے کی مہم چلائیں گے ناکہ میاں برادران کو ڈس کوالیفائی یا نااہل کر کے میدان سیاست سے نکلوانے کے لئے اول تو پیسے لینے کا الزام ثابت کرنا ہی جوئے شیرلانے کے مترادف ہے اور اب تو حکومت کی اس مہم میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی شامل ہو گئے ہیں اور انہوں نے مسلم لیگ(ن) پر تیروںکی برسات کر دی ہے۔ کہیںایسا نہ ہو کہ تحریک انصاف بھی عوام میں وہی درجہ حاصل کر لے جو اس وقت مسلم لیگ(ن) کو حاصل ہو چکا ہے۔ اگرموجودہ حالات پر اور حکمرانوں کی شطرنجی چالوںپر نگاہ ڈالیں تو یہ کہنے پر کوئی عار نہیں ہے کہ جمہوریت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں۔ اسلم بیگ جو مرضی کہتے رہیں اگر جمہوریت کو خطرہ ہے تو جمہوریت کے لبادے میں کالی بھیڑوں سے ہو سکتاہے اور اس خطرہ کو عوام ہی اپنے جمہوری شعور سے دفن کر سکتے ہیں ۔