”پاکستان کی فلم انڈسٹری کو بچانے کے لئے بھارتی فلموں پر پابندی لگائی جائے“

لاہور(کلچرل رپورٹر) پاکستان کی فلم و سینما انڈسٹری گزشتہ کئی برسوں سے بحران کا شکار ہے ایک زمانہ تھا کہ سال میں ڈیڑھ سو کے قریب اردو اور پنجابی فلمیں ریلیز ہوتی تھیں۔ اب حالت یہ ہے کہ سال 2010ءکے پہلے پانچ ماہ میں پاکستان کی صرف ایک فلم ”چناں سچی مچی“ ریلیز ہوئی ہے۔ سینما انڈسٹری کے حالات بھی خراب ہیں جب یہ انڈسٹری عروج پر تھی تو اس وقت ملک میں ایک ہزار سے زائد سینما گھر تھے جن میں سے صرف ڈیڑھ سو سینما گھر بچے ہیں اور ان میں صرف 95 فنکشنل ہیں۔ باقی سینما گھروں کی جگہ پر شاپنگ پلازے، شادی ہال اور تھیٹر بن گئے ہیں۔ معروف فلمساز و ایونیو سٹوڈیو کے اونر سجاد گل نے کہا کہ پاکستان کی فلم سینما انڈسٹری کا بحران اچانک نہیں آیا بلکہ اسے اس حالت تک پہنچنے میں کئی دہائیاں لگیں۔ موجودہ حالات میں ہماری انڈسٹری صرف ایسی صورت میں سج سکتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی لائی جائے اور ایسی معیاری فلمیں بنائی جائیں جو پاکستان کے علاوہ دوسرے ملکوں میں بھی ریلیز ہو سکیں۔ فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن سابق چیئرمین جمشید ظفر نے کہا کہ چور دروازے سے بھارتی فلمیں پاکستان آ رہی ہیں اور نمائش پذیر ہو رہی ہیں یہ بڑے بجٹ کی فلمیں ہیں اس لئے ان کا مقابلہ چھوٹے بجٹ کی فلمیں نہیں کر سکتی لہٰذا بھارتی فلموں پر پابندی لگائی جائے اداکارہ صائمہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری کے حالات اس وقت اچھے نہیں۔ لیکن ان حالات میں بھی جو اچھی فلم بنتی ہے وہ ضرور کامیاب ہوتی ہے۔ ہدایت کار سید نور نے کہا کہ اس بحران کے دور میں بھی چار فلمیں ووہٹی لے کے جانی اے، اک غازی ہور، عزت کی قیمت اور جگنی بنا رہا ہوں انہوں نے کہا کہ اگر فلم پر محنت کی جائے تو وہ ناکام نہیں ہوگی۔