پاکستان فلم انڈسٹری کےکامیڈی لیجنڈ محمد سعید خان رنگیلا کوہم سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے

پاکستان فلم انڈسٹری کےکامیڈی لیجنڈ محمد سعید خان رنگیلا کوہم سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے

کرم ایجنسی جیسے پسماندہ علاقے میں پیدائش کسی عام آدمی کے آگے بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے لیکن محمد سعید خان کے لئے یہ مشکلات بے معنی تھیں کیونکہ وہ تو خوشیوں کے خدائی سفیر تھے۔ انیس سو سنتیس میں پٹھان گھرانے میں پیدا ہونے والے سعید خان تن سازی کے شوقین تھے اور یہی شوق انہیں لاہور لے آیا۔ جہاں وہ تن سازی میں تو نام پیدا نہ کرسکے مگر اداکاری نے انہیں امر کردیا۔ سعید خان نے سینما کے بل بورڈز کو پینٹ کرکے اپنی فنکارانہ زندگی کا آغاز کیا اور پھر انیس سو اٹھاون میں رنگیلا کو فلم جٹی میں کام کرنے کا موقع مل گیا۔ اس کے بعد انہوں نے پلٹ کر نہیں دیکھا
فلم انڈسٹری میں آنے کی دیر تھی کہ رنگیلا کے جوہر ایک، ایک کر کے کھلنا شروع ہو گئے، کامیڈین تو وہ تھے ہی لیکن بطور سکرپٹ رائٹر، ہدایتکار اور اس کے بعد بحیثیت گلوکار انہوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور متعدد ایوارڈز حاصل کئے۔
رنگیلا عام آدمی کے فنکار تھے اور عوام الناس انہیں سکرین پر دیکھتے ہی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے اور اپنی پریشانیوں کو بھول جاتے۔ رنگیلا چالیس سال تک خوشیوں کے اس کارواں کولے کر چلتے رہے تاہم بعد میں خرابی صحت کے باعث انڈسٹری سے دور ہو گئے۔ ان کی بیٹی فرح دیبا کا کہنا ہے کہ رنگیلا اپنی ذات میں ایک انجمن تھے
رنگیلا کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا فلم انڈسٹری شاید ہی کبھی پر کرسکے کیونکہ ایسے ذہین اور خدادا صلاحیتیوں کے مالک فنکار روز، روز پیدا نہیں ہوتے