فلم ،ٹی وی اورسٹیج کے نامورمزاحیہ اداکارجمشید انصاری کو ہم سے بچھڑے چھ برس بیت گئے ہیں تاہم وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔

فلم ،ٹی وی اورسٹیج کے نامورمزاحیہ اداکارجمشید انصاری کو ہم سے بچھڑے چھ برس بیت گئے ہیں تاہم وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔

جمشید انصاری اکتیس دسمبر انیس سو بیالیس کو ہندوستان کےعلاقے سہارنپور میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا۔ جمشید انصاری گریجوایشن کے بعد لندن چلے گئے جہاں کچھ عرصہ بی بی سی میں کام کرنے کےساتھ انہوں نے ٹی وی پروڈکشن کے کورسسز بھی کیے۔ لندن میں قیام کے دوران انہوں نے شوکت تھانوی کے لکھے ہوئے ڈرامے \\\"سنتا نہیں ہوں بات\\\" بھی پیش کیا۔ وہ انیس سو اڑسٹھ میں پاکستان واپس آئے اور اپنے فنی کیرئیر کا آغاز ڈرامہ جھروکے سے کیا۔ انہوں نے درجنوں ٹی وی ڈراموں میں کام کیا جن میں انکل عرفی، گھوڑا گھاس کھاتا ہے، کرن کہانی، تنہائیاں، زیر زبر پیش، شوشہ اور ان کہی کے علاوہ دیگر ڈرامے شامل ہیں۔ جمشید انصاری نے نہ صرف ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کی بلکہ انہیں ریڈیو کا بھی بڑا صداکار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ انکے مکالمے \\\"چقو ہے میرے پاس\\\"، \\\"زور کس پے ہوا\\\" اور \\\"قطعی نہیں\\\" انکی پہچان بن گئے۔ جمشید انصاری برین ٹیومر کی وجہ سے کافی عرصے تک کراچی کے مقامی ہسپتال میں زیر علاج رہے اورچوبیس اگست دو ہزار پانچ میں کراچی میں انتقال کرگئے۔ دو درجن کے قریب قومی سطح کے ایوارڈ یافتہ جمشید انصاری کو ہم سے بچھڑے چھ برس بیت گئے ہیں تاہم وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔