ملکہ غزل اقبال بانو کو مداحوں سے بچھڑے ہوئے چھ سال بیت گئے،آپ انمول تحفہ تھیں جو قدرت صدیوں میں کسی قوم کو عطا کرتی ہے

ملکہ غزل اقبال بانو کو مداحوں سے بچھڑے ہوئے چھ سال بیت گئے،آپ انمول تحفہ تھیں جو قدرت صدیوں میں کسی قوم کو عطا کرتی ہے

اقبال بانو نے غزل گائیکی میں راج کیا اگر یہ کہا جائے کہ موسیقی کی اس صنف میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا تو غلط نہ ہو گاانیس سو پینتیس میں دہلی میں پیدا ہونے والی اقبال بانو نے دہلی گھرانے کے استاد چاند خان سے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔ انیس سو ستاون میں لاہور آرٹس کونسل کے ایک پروگرام سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ریڈیو پاکستان لاہور کے ذریعے ان کی آواز کا سحر دور دور تک پھیل گیااقبال بانو کی فلمی، غیر فلمی غزلیں اور گیت ہر عمر اور ہر دور کے لوگوں میں مقبول رہے ہیں،انہوں نے قتیل شفائی کو انتہائی دلکش اور پر اثر انداز میں گایا۔ اقبال بانو ایک بہادر اٹل ارادے کی مالک خاتون تھیں،انہوں نے فیض احمد فیض کے مزاحمتی اور انقلابی کلام کو اس وقت گایا، جب فیض کا کلام پڑھنا جرم سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے اساتذہ کے کلام کو جس انداز سے گایا، وہ انہی کا خاصہ تھا۔ اقبال بانو کی من موہنی، کھنک دار اور سریلی آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چپ چکی وہ ایسا انمول تحفہ تھیں جو قدرت صدیوں میں کسی قوم کو عطا کرتی ہے۔ ان کی گائی ہوئی غزلیں ، گیت اور مزاحمتی کلام، ان کو سننے والوں کے ذہنوں اور دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔