خیبر پی کے اسمبلی: غیر اخلاقی فلموں ڈراموں پر پابندی کا بل پیش

پشاور (بی بی سی اردو) خیبر پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت نے کیبل پر چلنے والی غیر اخلاقی فلموں، سٹیج اور سی ڈیز ڈراموں پر پابندی عائد کرنے کے لیے بل صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔ بل کے مطابق ’صوبے بھر میں سنسر بورڈز کی اجازت کے بغیر کیبل پر نشر کیے جانے والے اخلاق سے گرے ہوئے مواد اور غیر اسلامی تمام فلموں، ڈراموں اور شوز پر پابندی عائد کی جائے گی جبکہ عوامی مقامات پر فلموں اور ڈراموں کی عکس بندی پر بھی پابندی ہوگی۔‘ صوبے میں کوئی فلم، ڈرامہ یا سٹیج شو سنسر بورڈ کی منظوری کے بغیر نمائش کے لیے پیش نہیں کیا جائے گا خلاف ورزی کرنے والوں پر تین سال قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ بل کے تحت صوبے میں ایک سے زائد سنسر بورڈز کا قیام عمل میں لایا جائےگا جبکہ ہر بورڈ چیئرمین سمیت چار ممبران پر مشتمل ہوگا۔ بل کے قانون بننے کے بعد صوبے میں ایک سال کے اندر اندر بننے والی تمام فلموں اور سٹیج ڈراموں کو بھی سنسر بورڈ سے سرٹیفکیٹ لینا ہوگا ورنہ ان پر بھی پابندی لگائی جائے گی۔ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی ایسی فلم، ڈرامے یا شو کی اجازت نہیں دے جائے گی جس کا کوئی حصہ غیر اخلاقی مواد پر مشتمل ہو یا اسلامی تعلیمات، ملک و قوم کے خلاف ہوں۔ بل کے مطابق اس سلسلے میں درجہ اول مجسٹریٹ کے کسی بھی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی کسی عدالت کو اختیار ہوگا کہ وہ مجسٹریٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے سکے۔

بل پیش