”ماں بولی خالص انسانی رویوں کی آئینہ دار ہوتی ہے“

 ”ماں بولی خالص انسانی رویوں کی آئینہ دار ہوتی ہے“

اسلام آباد (نامہ نگار) پوٹھوہاری زبان سچے جذبوں، کھرے لفظوں اور خوبصورت لہجوں کی امانت دار ہے۔ مالی بولی زبان خالص انسانی رویوں اور تہذیب کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار جاوید اقبال راجہ نے اکادمی ادبیات اور پوٹھوہاری لینگوئج اینڈ کلچرل کونسل کے زیراہتمام پوٹھوہاری زبان و ادب مذاکرہ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ عبدالحمید، چیئرمین اکادمی ادبیات تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ نظامت آل عمران نے کی۔ مقررین نے کہا کہ ماں بولی خالص انسانی رویوں اور تہذیب کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوٹھوہاری زبان و ادب میں خواتین اور نوجوان لکھاریوں کو برابری کی سطح پر نمائندگی دینی چاہئے۔ شیراز طاہر نے کہا کہ پوٹھوہاری زبان مکمل ادب کی حیثیت رکھتی ہے۔ شعیب خالق نے کہا کہ پوٹھوہاری زبان منفرد لہجے کی زبان ہے۔ ملک شاہد اعوان نے کہا کہ پوٹھوہاری زبان و ادب کی پذیرائی کی جانی چاہئے۔ اصغر شاد نے کہا کہ پوٹھوہاری زبان کی تہذیب اور وسیب کو بین الاقوامی سطح پر پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر رفعت محمود، شہزاد عربی ناکش، سردار مسعود آکاش، افضل منہاس، حکیم ر¶ف کیانی، اخلاق ارشد، تراب نقوی، زمان اختر نے اپنی کتابیں چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان کو پیش کیں۔ زمان اختر، ازرم خیام اور عمران عامی نے پوٹھوہاری میں کلام پیش کیا۔