لاہور کی ثقافتی تقریبات

سیف اللہ سپرا ....
ایک زمانہ تھا کہ پاکستان کے تاریخی شہر لاہور کو ثقافت کا مرکز کہا جاتا تھا۔ ملک کی سب سے بڑی فلمی منڈی بھی اسی شہر میں تھی پھر اس شہر کے نگارخانے پوری طرح آباد تھے۔ ایونیو، باری، شاہ نور اور شباب سٹوڈیوز میں دن رات فلموں کی شوٹنگز ہوتیں جس کے باعث اداکاروں، گلوکاروں، ہدایت کاروں، موسیقاروں، فلمسازوں سمیت فلم انڈسٹری سے وابسطہ تمام افراد کا ان سٹوڈیوز میں آنا جانا لگا رہتا پھر ان زیر تکمیل فلموں کی تقریبات سٹوڈیوز کے علاوہ شہر کے بڑے ہوٹلوں، سینما گھروں، الحمراءاور دیگر مقامات پر جاری رہتیں، ہر سال ڈیڑھ سو سے دو سو تک فلمیں بنتیں لہٰذا کبھی فلم کے سیٹ پر جانے کی تقریب، کبھی فلم کی میوزک لانچنگ تقریب، کبھی فلم کے فوٹو سیٹ کی تقریب، کبھی کسی سنگر کے البم کی افتتاحی تقریب، کبھی موسم بہار اور بسنت کی تقریبات غرضیکہ سارا سال اس تاریخی شہر میں ثقافتی تقریبات کا سلسلہ جاری رہتا۔ عیدین خصوصاً عیدالفطر پر فلمیں زیادہ تعداد میں ریلیز ہوتیں اس لئے رمضان میں فلمی تقریبات کا زیادہ زور ہوتا۔ رمضان میں فلمی تقریبات کے علاوہ فنکار برادری افطار پارٹیوں کا بھی بڑے شوق سے اہتمام کرتی۔ رمضان کے مہینے میں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ ایک دن میں دو دو تین تین تقریبات ہوتیں جیسے ہی فلم انڈسٹری پر بحران آیا۔ فلمی اور ثقافتی تقریبات کا سلسلہ بھی دم توڑ گیا۔ سال 2012ءکے دوران کل پانچ فلمیں ریلیز ہوئیں جو تمام کی تمام پنجابی تھیں اس کے علاوہ کچھ پشتو تھیں اور قومی زبان اُردو کی ایک فلم بھی ریلیز نہیں ہوئی۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ پچھلے سال ریلیز ہونے والی کسی فلم کی تقریب کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ رمضان کے سارے مہینے میں صرف ایک اداکارہ زری نے افطار پارٹی کا اہتمام کیا۔کبھی جشنِ بہاراں اور بسنت بھی ایک بڑا ثقافتی تہوار ہوتا تھا مگر دھاتی ڈور کے استعمال سے جب قیمتی انسانی جانیں ضائع ہونے لگیں تو اس پر بھی پابندی لگ گئی۔ رہی سہی کسر بم دھماکوں نے نکال دی لوگ تقریبات کا اہتمام کرتے وقت سو بار سوچتے ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے پاکستان کا یہ ثقافتی مرکز کچھ ویران سا ہو گیا ہے لیکن عطاءالحق قاسمی کی سربراہی میں الحمراءآرٹ سنٹر اور کچھ ثقافتی تنظیمیں لاہور کی اس ویرانی کو دور کرنے اور اس کی رونقعیں بحال کرنے کے لئے اب بھی کوشاں ہیں۔ پچھلے ہفتے لاہور میں دو بڑی ثقافتی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ ایک تقریب گلوکارہ فریدہ خانم کے اعزاز میں تھی جبکہ دوسری تقریب بولان ایکسیلینس ایوارڈز کی تھی۔ گلوکارہ فریدہ خانم کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام الحراءآرٹس کونسل نے کیا۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی تھے۔ تقریب کے دیگر شرکاءمیں میاں یوسف صلاح الدین، جگنو محسن، ریذیڈنٹ ڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل محمد علی بلوچ، گلوکار عدیل برکی، صوفیہ بیدار اور دیگر شامل تھے۔ اس تقریب میں گوالیار گھرانے کے معروف گلوکار اُستاد فتح علی خاں حیدر آبادی، گلوکار غلام عباس اور گلوکارہ بینش رشید نے پرفارم کیا۔ معروف موسیقار ارشد محمود نے اس تقریب کی کمپیئرنگ کی۔ اس تقریب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ گلوکارہ فریدہ خانم نے بھی اپنی مقیول غزلیں اور کچھ پنجابی فوک کلام گایا جو حاضرین نے بہت پسند کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی نگران وزیراعلی پنجاب نجم سیٹھی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فریدہ خانم بہت بڑی گلوکارہ ہیں اور ہمارے ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں شرکت میرے لیے باعثِ افتخار ہے۔ فریدہ خانم ہمارے گھر کے قریب ہی رہتی ہیں ہمارا ان کے ساتھ گھریلو تعلق ہے اور یہ اکثر ہمارے گھر آتی جاتی رہی ہیں۔ میری بیوی جگنو محسن کو بھی موسیقی کا بہت شوق ہے ہمارے گھر میں موسیقی کی تقریبات منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ میرے بیٹے علی کو موسیقی کا شوق ہوا تو وہ گلوکارہ فریدہ خانم کا شاگرد بن گیا اور مجھے موسیقی کی جوتھوڑی بہت سوجھ بوجھ ہے یہ مجھے اپنے بیٹے علی سے ہی حاصل ہوئی ہے۔ فریدہ خانم کی گلوکاری کا اپنا ایک انداز ہے جو مجھے بہت پسند ہے اور میرے لیے فریدہ خانم قابل احترام ہیں۔ تقریب میں فریدہ خانم کو ان کی خدمات کے اعتراف میں الحمرا کمال فن ایوارڈ اور پانچ لاکھ روپے کا چیک دیا گیا۔ اس موقع پر اخبار نویسوں نے وزیراعلیٰ کے ساتھ سیاسی حوالے سے گفتگو کرنا چاہتی تو وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج سیاسی نہیں صرف فریدہ خانم کے حوالے سے گفتگو ہوگی۔بولان ایکسلینس ایوارڈ کی تقریب کا اہتمام بولان کلچرل سوسائٹی نے الحمرا ہال ہی میں کیا۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ تھے۔ اس تقریب میں شوبز سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے ایوارڈ وصول کرنے والوں میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ‘ چیئرمین ادارہ متبادل انرجی طاہر علاﺅالدین، بیگم انیس مجید، شاہدہ لطیف، اعجاز حسین، میر نعیم آفتاب، سردار جاوید ایوب، سجاد سلیم ہوتیانہ، آصف ملک، طاہر بخاری اور ناصرہ عتیق کے علاوہ گلوکار عدیل برکی، وارث بیگ، اداکارہ زری، لاشانہ، تابندہ اور اظہر رنگیلا شامل تھے۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے بولان کلچرل سوسائٹی کی خدمات کو سراہا اور ایوارڈ وصول کرنے والوں کو مبارک دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کام کریں جس سے اپنے ملک اور لوگوں کی بھلائی ہو۔ میں عوامی چیف منسٹر ہوں۔ کارکن سے چیف منسٹر بنا۔ میرے دروازے سب کے لیے ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔ میں اپنا فون خود سنتا ہوں۔ میرے عوام جب چاہیں مجھے فون کر سکتے ہیں اگرچہ ہمارے صوبے کے وسائل بہت کم ہیں پھر بھی ہم نے کوشش کرکے 40میگاواٹ بجلی خود بنائی ہے۔ آنے والے وقتوں میں ملک کو گلگت بلتستان سے 40ہزار میگاواٹ تک بجلی حاصل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی آٹھ بلند چوٹیوں میں سے پانچ ہمارے علاقے میں ہیں اس پر ہمیں فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دل آپ کے ساتھ دھڑکتا ہے ہماری محبت پہاڑی پانی کی طرح صاف اور شفاف ہے۔ تقریب سے شاہدہ لطیف، خلیق احمد اور سجاد سلیم ہوتیانہ نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں گلوکار وارث بیگ، نشو، عدیل برکی، زری، عظمیٰ، لاشانہ، ماہم، نرمل، اظہر رنگیلا نے پرفارم کیا۔ جسے حاضرین نے بہت پسند کیا۔ تقریب کے دیگر شرکاءمیں ڈاکٹر ایم ایم خان، خالد پرویز شیخ، بیرسٹر افضل جاوید، اعجاز حسین، ڈاکٹر منظور، تنویر نازی، سہیل محمود، سعد ایس خان شامل تھے۔ تقریب کی کمپیئرنگ اسلم سیماب نے کی۔پاکستان کے ثقافتی مرکز لاہور میں مسلسل دو دن بڑی تقریبات کے انعقاد یہ ثقافتی حلقوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور ثقافتی اداروں وثقافتی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ ثقافتی تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھا جائے تاکہ اس ثقافتی شہر کی رونقیں بحال ہو سکیں۔ٰ