ریڈیو پاکستان اور موسم بہار

ریڈیو کالم ۔۔۔ اصغر ملک ......
ریڈیو پاکستان آجکل موسم بہار کی آمد اور استقبال کی مناسبت سے بہار کے گیت اور وطن کے نغمے مختلف پروگراموں میں نشر کرتا ہوا سنائی دے رہا ہے۔ بہار کے کئی رنگ، ڈھنگ اور انگ ہوتے ہیں جیسے آجکل ہماری پاک دھرتی میں خاص طور پر شمالی علاقہ جات کے ریڈیو جن میں اسکردو، سوات، گلگت، چترال، بنوں، ژوب، ایبٹ آباد وغیرہ شامل ہیں۔ بہار کی آمد سے پھلوں اور پھولوں سے لدنے شروع ہو گئے ہیں اور ایسے ایسے حسین و دلکش منظر پیش کرتے دکھائی دے رہے ہیں جو قابل دیدنی اور وہاں کے رہائشی لوگ فصلوں اور باغوں میں پھلوں پھولوں کی بہاروں کو دیکھ کر پھولے نہیں سما رہے ریڈیو پاکستان بھی بہار کی آمد اور ملکی حالات کے ہم قدم پروگرام نشر کرتا ہوا سنائی دے رہا ہے باغوں میں پڑے جھولے، تم ہمیں بھول گئے ہم تم کو نہیں بھولے، بہار کی آمد کے ساتھ ہی 13 سے 15 اپریل کو گندم کی برداشت یعنی کٹائی کا موسم شروع ہو جاتا ہے ریڈیو پاکستان کے زراعتی پروگراموں میں گندم کی کٹائی اور گہائی کے ساتھ ساتھ اس کی سٹوروں میں حفاظتی مشوروں کے ساتھ گیت اور نغمے بھی نشر ہونے شروع ہو جاتے ہیں آپ کو معلوم ہوگا کہ 13اپریل کو انڈو پاک میں بیساکھی کا تہوار گندم کی کٹائی کی خوشی میں منایا جاتا ہے اور ہمارے ہاں بزرگانِ دین کے عرس اور میلے شروع ہو جاتے ہیں جیسے مارچ کے آخری ہفتے میں حضرت شاہ حسینؒ کا سالانہ عرس منایا گیا اور اسی مناسبت سے ریڈیو پاکستان سے حضرت شاہ حسینؒ کا کلام اور آپ کے تین روزہ عرس کی تقریب کی ریڈیو رپورٹیں بھی نشر کی گئیں۔ آج کل عوام کے علاوہ کچھ ریڈیو لورز نے لسسرز کلب بھی بنالی ہوئی ہیں جن کے عہدیدار ہر صوبے اور خطے میں موجود ہیں جو اپنے لیٹرپیڈ پر خطوط لکھ کر اپنی پسند کے پروگراموں کو سنتے اور پسند کرنے کے علاوہ تنقید بھی کرتے ہیں اور بہتری کے لیے تجاویز بھی ارسال کرتے رہتے ہیں اور ریڈیو پاکستان کی تعمیری تنقید اور مشوروں کو جو پالیسی کے مطابق ہوں اُن پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے اور بعض لوگ فرضی ناموں سے فرمائشی گیتوں کو سننے کے لیے فون بھی کرتے ہیں لیکن ریڈیو پاکستان انڈین فلموں کے گیتوں سے اس لیے اجتناب کرتا ہے کہ وہ اس کی پالیسی کے مطابق نہیں ہوتے۔ دوسرا اُن میں ہندو مذہب کا پرچار ہوتا ہے جو ہمارے نظریئے کے خلاف ہیں، پھر یہ لسنرز کلب اپنے علاقے کے فلاحی کاموں کی تشہیر کے لیے فون کرتے رہتے ہیں سماجی برائیوں کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں ریڈیو پاکستان اپنی پالیسی کے مطابق متعلقہ محکموں تک اُن باتوں کو پہنچانے کی کوششیں کرتا رہتا ہے لیکن ملکی حالات سب کے سامنے ہیں ریڈیو پاکستان سننے والوں کے چند لسنرز کلب کے نام کچھ اس طرح ہیں کوہ نور ریڈیو لسنرز کلب درگاہ بتول ٹھٹھہ، ورلڈ لسنرز کلب کالو والا جھنگ، گوپانک لسنرز کلب قمر کوٹ سندھ، ناصر لسنرز کلب گھمن کلاں تحصیل پتوکی ضلع قصور، اٹک لسنرز کلب سمیر ملک یہ صاحب اکثر قون پر اور خطوط کے ذریعے اپنی تجاویز بھیجتے رہتے ہیں۔ فیروزوالا لسنرز کلب ضلع شیخوپورہ سے ملک ابوتراب وغیرہ اگر نام لکھنے لگوں تو کئی کالم درکار ہوں گے کیونکہ بجلی کی روکی انتہائی کمی کی وجہ سے ملک میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ریڈیو پاکستان کے پروگرام سننے کے لیے لوگوں کے پاس موبائل فون اور بیٹری والے سیٹ موجود ہیں جو ریڈیو والوں کو اپنی تکالیف اور پریشانیوں سے اکثر آگاہ کرتے رہتے ہیں لیکن ریڈیو پاکستان ایک حد تو بات کر سکتا ہے لیکن بعض باتیں اور مسائل ایسے بیان کیے جارہے ہوتے ہیں جو ریڈیو پاکستان والوں کے حلقہ اختیار سے باہر ہوتے ہیں پھر آج کل انتخاب کا زمانہ ہے۔ حکومت، عوام اور سرکاری مشینری کی توجہ پرامن انتخابات کی طرف مبذول ہے اور ریڈیو پاکستان بھی حکومت پاکستان کا بہت بڑا نشریاتی ادارہ ہے جس کی نشریات ہوائی جہازوں سے لیکر غاروں، پہاڑوں، سبزہ زاروں، آبشاروں، راہ گزاروں، گلزاروں اور کوچہ و بازاروں تک رسائی حاصل کر چکی ہیں اور اس کی نشریات کا اپنا ایک علیحدہ طور طریقہ ہے جہاں نہ اخبار جا سکتا ہے اور نہ ہی ٹی چینلز کی پہنچ ہے۔ ریڈیو نشریات کسی گل ڈنڈے کے کھیل کا نام نہیں یہاں چیتے کا جگر اور شاہین کا تجسس درکار ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں بڑی مشکل سے ہاتھ آتی ہیں الیکشن کا موسم ہے امیدوار گھر گھر جاکر یہی شعر دوہرا رہے ہیں ہمیں بولنا نہیں، بہار کا موسم ہے۔ ریڈیو پاکستان بہار کا ایک بہت بڑا جشن منایا کرتا تھا جو تین دن جاری رہتا تھا اب ملکی حالات کی وجہ سے شاید ایسا نہ ہوسکے۔