(ن) لیگ‘ پی ٹی آئی اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیساتھ پی پی پی مدمقابل

حامد علی خان....سیالکوٹ کی سیاسی ڈائری
دنیا بھر میں کھیلوں، آلات جراحی، بیجز اور لیدر گارمنٹ وغیرہ کی برآمدات کی وجہ سے مشہورسیالکوٹ کی آبادی چھتیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ شہر اپنی برآمدات سے ملک کیلئے سوا ارب ڈالر سے زائد قیمتی زرمبادلہ کما کر ملکی معیشت کو بہتربنانے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ بیرون ممالک مقیم یہاں کے باسی بھی ملک کیلئے زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔
اس ضلع کے شمال میں مقبوضہ جموں وکشمیر سے ملحقہ ورکنگ باﺅنڈری ہے جبکہ مغرب میں ضلع گجرات ، جنوب مغرب میں ضلع گوجرانوالہ اور مشرق میں ضلع نارووال واقعہ ہے۔ 1305 مربع میل پر محیط چار تحصیلوں سیالکوٹ، ڈسکہ، پسرور اور سمبڑیال پر مشتمل اس ضلع میںچالیس فیصد جٹ، 16فیصد راجپوت، 16فیصد گجر، 11فیصد آرائیں، سات فیصد کشمیری، چار فیصد اعوان، چار فیصد پٹھان اورچار فیصد دیگر برادریاں بستی ہیں۔ ضلع کی 124یونین کونسلیں ہیں۔ سیالکوٹ کے اہم مقامات میں مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کی جائے پیدائش اقبال منزل ، کینٹ کا گھنٹہ گھر، دربار امام علی الحق شہید المعروف امام صاحب،گورنمنٹ مرے کالج ، جناح کرکٹ اسٹےڈےم ، سےالکوٹ انٹرنےشنل ائےرپورٹ، سےالکوٹ ڈرائی پورٹ ،سےالکوٹ چےمبر آف کامر س اینڈ انڈسٹری، چوک علامہ اقبال، میموریل کرسچن ہسپتال ،کینٹ کا گرجا گھر شامل ہیں جبکہ تفریح کیلئے ہیڈمرالہ ہیڈورکس(جہاں درےائے چناب،دریائے جموںاور درےائے مناور توی آکر ملتے ہیں ) اور اس ضلع کا اہم قصبہ چونڈہ (جہاں 1965ءمیں دنےا کی ٹےنکوں کی سب سے بڑی جنگ ہوئی)اور سچیت گڑھ (جہاں سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں داخلہ کا راستہ ہے )ہیں۔ سیالکوٹ کی اہم ترین اور قابل فکر شخصیت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ہیں جنہوں نے مسلمانان برصغیر کو آزاد وطن کا خواب دیا۔ دیگر اہم شخصیات میںانقلابی شاعر فےض احمد فےض ، ہاکی کے نامور کھلاڑی شہناز شیخ ، منظور جونےئر،آصف باجوہ ،کرکٹ کے عظےم کھلاڑی ظہیر عباس ، اعجازاحمد ، زاہد فضل ،قومی کرکٹ ٹےم کے سابق کپتان شعےب ملک ، علامہ حافظ محمد عالم ، خواجہ محمد صفدر ، علامہ اقبال کے استاد مولانا میر حسن ،جنرل (ر) جہانگےر کرامت ،رےٹائرڈنےول چیف ایڈمرل منصور الحق شامل ہیں۔
گیارہ مئی کو ہونے والے جنرل الیکشن میں ضلع بھر کے اٹھارہ لاکھ اکتالیس ہزار تین سو سنتالیس ووٹرز جن میں سے دس لاکھ 75ہزار 855مرد اور سات لاکھ 65ہزار 492خواتین ووٹرز آئندہ بننے والی حکومت میں اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔ ضلع کی پانچ قومی اور گیارہ صوبائی اسمبلی کی سیٹیں ہیں جن میں سے تحصیل سیالکوٹ دو قومی اسمبلی اور پانچ صوبائی، تحصیل ڈسکہ ایک قومی اور تین صوبائی، تحصیل پسرور ایک قومی اور دو صوبائی جبکہ تحصیل سمبڑیال کی ایک قومی اور ایک صوبائی سیٹ ہے۔

 NA-110سیالکوٹ I
یہ حلقہ سیالکوٹ شہر، کینٹ اور نواحی درجنوںدیہات پر مشتمل ہے ۔کل ووٹروں کی تعداد تین لاکھ 43ہزار 231 ہے جن میں مرد ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 92ہزار 589اور خواتین ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار 640ہے۔ 227پولنگ سٹیشن میں سے 82مرد اور 82خواتین اور 63کمبائنڈ پولنگ سٹیشن ہیں جن میں سے 33انتہائی حساس اور 71حساس ہیں۔
گزشتہ بیس سالوں سے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ محمد آصف کامیاب ہوتے رہے ہیں۔2008ءانتخابات میں وہ پیپلز پارٹی کے امیدوار زاہد بشیر چوہدری سے چالیس ہزار سے زائدووٹ لیکر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ گیارہ مئی کو ہونے والے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) خواجہ محمد آصف کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، آصف جاوید بٹ اورراجہ عامر خان کاغذات جمع کروا رکھے ہیں۔اس حلقہ میں پیپلز پارٹی دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ کچھ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے حق میں ہیں اور کچھ چاہتے ہیں کہ آصف جاوید بٹ کو ٹکٹ دیا جائے۔ لیکن تاحال اس حلقہ سے پیپلز پارٹی نے ابھی تک باضابطہ کسی امیدوار کا اعلان نہیں کیا ۔ پاکستان تحریک انصاف نے سابق تحصیل ناظم امتیاز الدین ڈارکے صاحبزادے عثمان ڈارکو ٹکٹ دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیدوار و سابق رکن پنجاب اسمبلی ارشد محمود بگو ایڈووکیٹ، ملک منیر حسین، مجلس وحدت المسلمین کے محمد طفیل جعفری، متحدہ قومی موومنٹ کے ملک سیف اللہ اعوان، تحریک تحفظ پاکستان کے محمد جلیل راو¿ ایڈووکیٹ جبکہ رانا عبدالقدوس خان، چوہدری عبدالحمید اور حافظ حامد رضا نے بطور آزاد امیدوار کاغذات جمع کروا رکھے ہیں۔ یہ حلقہ مسلم لیگ کا ہے لیکن آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ جماعت اسلامی ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں سخت مقابلہ کی توقع ہے۔ اگر تحریک انصاف ڈار فیملی کو ٹکٹ دیتی ہے اور پیپلز پارٹی آصف جاوید بٹ کے حق میں فیصلہ ددیتی ہے تو اس سیٹ پر کشمیری امیدواروں میں مقابلہ ہو گا۔

NA-111سیالکوٹ II
سیالکوٹ شہر کے تین اطراف پر محیط دیہی علاقوں پرمشتمل ضلع کا سب سے بڑا حلقہ ہے جس میںبجوات کے 85دیہات کے علاوہ قصبہ اگوکی، مراد پور، کوٹلی لوہاراں، مراکیوال، گوندل، سید پور، کوبے چک، ھیڈمرالہ، ھندل اور دیگر سینکڑوںدیہات شامل ہیں۔ اس حلقہ میں ووٹروں کی تعداد چار لاکھ ایک ہزار چار سو چار ہے جن میں سے دو لاکھ چونتیس ہزار سات سو 75مرد اور ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار چھ سو 29خواتین کی ہے۔ پولنگ کیلئے 290پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں جن میں سے 43مرد، 43خواتین اور 204 کمبائنڈ پولنگ سٹیشن ہیں۔ جن میں سے 45پولنگ سٹیشنوں کا انتہائی حساس اور 109کو حساس قرار دیا گیا ہے ۔
اس حلقہ سے 1997اور 2002میں سابق سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہوئے تھے اور انہوں نے اس بار بھی آزاد حیثیت سے کاغذات جمع کروائے ہیں ۔ گزشتہ انتخابات چوہدری امیر حسین کے مقابلہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ساڑھے بتیس ہزار ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئی تھیں۔ وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیںاور وفاقی وزارت اطلاعات کے اہم منصب پر اپنی ذمہ داریوں نبھا چکی ہےں۔
آئندہ ماہ ہونے والے الیکشن کیلئے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے گجر برادری سے تعلق رکھنے والے وریوخاندان فرزند و سابق صوبائی وزیر ارمغان سبحانی کو میدان میں اتارا ہے۔ ارمغان سبحانی کے والد چوہدری عبدالستارسبحانی، تایا چوہدری اختر وریو(مرحوم) اور تایا زاد بھائی خوش اختر سبحانی اراکین اسمبلی رہ چکے ہیں۔
 پیپلز پارٹی کی طرف سے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے علاوہ سابق ایم پی اے ملک طاہر اختر اعوان نے بھی کاغذات جمع کروا رکھے ہیں۔ سابق صوبائی وزیر محمد اجمل چیمہ کو پاکستان تحریک انصاف نے اپنا میدوار نامزد کیاہے۔ جمعیت علماءپاکستان کے توقیر احمد باجوہ، عوامی مسلم لیگ کے نعیم امجد، پاکستان پیپلز پارٹی(شہید بھٹو) کے فیض اللہ چیچی،تحریک استحکام پاکستان کے سید علی رضا، متحدہ قومی موومنٹ کی رضیہ اقبال ، منیر اقبال، یاسر احمد، مجلس وحدت المسلمین کے محمد سرور، پاکستان سنی تحریک کے جہانگیر رشید، جبکہ سید خالد محمود شاہ، میاں عابد جاوید، فصیح الدین، ملک محمد اخلاق،سرفراز جعفر نے کاغذات جمع کروائے ہیں۔ اس حلقہ میں پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بہت سے ترقیاتی کام جس میں سوئی گیس کی فراہمی اور دیہات میں سڑکوں وغیرہ کے منصوبے مکمل کروائے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) نے علاقہ مسائل کو حل کرنے کیلئے ترقیاتی کام کرائے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ا س حلقہ میں گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان سخت ترین مقابلے کی توقع کی جارہی ہے ۔

NA-112 سیالکوٹ III
تحصیل سمبڑیال پر مشتمل اس حلقہ میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعدادتین لاکھ 30ہزار چار ہے جن میں سے دو لاکھ 14ہزار 186مرد اور ایک لاکھ 48ہزار 818خواتین ہے۔ 281پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں جن سے 33انتہائی حساس ہیں جبکہ 72کو حساس قرار دیا گیا ہے۔
2002ءکے انتخابات میں مسلم لیگ(ق) کے انتخابات میں عمر لیاقت گھمن 68ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ 2008ءمیں مسلم لیگ (ق) کے قائد چوہدری چوہدری شجاعت حسین کے مقابلہ میں مسلم لیگ(ن) کے رانا عبدالستار 92ہزار سے زائد ووٹ لے کرکامیاب ہوئے تھے۔
مئی 2013ءمیں ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے ممبر پنجاب اسمبلی رانا شمیم احمد خان کو ٹکٹ دیا ہے۔ وہ پہلے بھی کئی بار رکن اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں اور 2008ءکے انتخابات میں رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ انکا بیٹے رانا عبدالستار رکن قومی اسمبلی چنا گیا تھا۔ اسی حلقہ سے مسلم لیگ (ق) نے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت معروف صنعتکار محمد سلیم بریار کو پارٹی ٹکٹ دیا ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری اعجاز احمد چیمہ، محمد مالک گھمن اورکنزہ اعجاز چیمہ بھی پارٹی کی طرف سے گرین سگنل کے منتظر ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سلمان سیف اللہ چیمہ کے کاغذات منظور ہو چکے۔ ایم کیو ایم کے چوہدری عبدالقیوم باجوہ، جماعت اسلامی کے محمد ایوب انجم اور محمد اویس، پاکستان سنی تحریک کے جہانگیر رشید اور بطور آزاد امیدوار چوہدری بلال حسین گوندل، عمران حسین، یاسر اقبال نے کاغذات نامزدگی جمع کروا رکھے ہیں۔ اس حلقہ میں مسلم لیگ (ن) ،مسلم لیگ (ق) اور پاکستان تحریک انصاف میں مقابلہ ہو گا۔

NA-113 سیالکوٹ IV
تحصیل ڈسکہ کے شہری اور دیہاتی علاقوں پر محیط یہ اس حلقہ میں تین لاکھ 54ہزار 741ووٹرز جن میں دو لاکھ نو ہزار نو سو چار مرد اور ایک لاکھ 44ہزار 837خواتین ووٹر مئی میں ہونے والے الیکشن میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ الیکشن کیلئے 267پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں جن میں سے 27انتہائی حساس ہیں اور 75کو حساس قرار دیا گیا ہے۔
 2002ءمیں مسلم لیگ (ق) کے علی اسجد ملہی پچاس ہزار پانچ سو بانوے ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور صدر پرویز مشرف کے دور میں وفاقی وزیر رہے۔ علی اسجد ملہی نے آئندہ ماہ ہونے والے الیکشن کیلئے بھی مسلم لیگ (ق) کے امیدوار ہیں۔ 2008میں پاکستا ن مسلم لیگ(ن) کی ٹکٹ پر 77ہزار آٹھ سوانیس ووٹ لے کر کامیاب ہونے والے صاحبزادہ سید مرتضیٰ امین کے سسر سید افتخار الحسن المعروف ظاہرے شاہ کو مئی میں ہونے والے الیکشن کیلئے مسلم لیگ (ن) نے ٹکٹ دیا ہے۔مسلم لیگ (ن) کے کچھ دھڑوں اور کچھ برادریوں کو بھی سید افتخار الحسن کو ٹکٹ پر تحفظات بھی ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے امین سجاد، ظہیر الحسن، مقبول احمد، پاکستان تحریک انصاف نے مرزا عبدالقیوم کوپارٹی ٹکٹ دیاہے۔جماعت اسلامی کے بشیر احمد، جمعیت علماءپاکستان کے طارق مقصود جبکہ چوہدری صداقت علی، منور احمد گل، سید عمران حیدر اورخالد محمود آزاد حیثیت سے کاغذات جمع کروا رکھے ہیں۔ آئندہ ماہ ہونے والے الیکشن میں تحریک انصاف کے مرزا عبدالقیوم ، افتخار الحسن ظاہرے شاہ اور علی اسجد ملہی کے درمیان سخت مقابلہ کی توقع ہے۔

NA-114 سیالکوٹ V
تحصیل پسرور کے شہری اور مضافاتی علاقوں سینکڑوں دیہات پر مشتمل اس حلقہ میں کل ووٹروں کی تعداد تین لاکھ 81ہزار 496ہے جن میں دو لاکھ 26ہزار 114مرد اور ایک لاکھ 55ہزار 382خواتین ووٹرہیں۔ ووٹروں کے لئے تین سو پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں جن میں سے 43انتہائی حساس اور 98حساس پولنگ سٹیشن ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے2002اور 2008میں بالترتیب 73ہزار اور 62ہزار سے زائد ووٹ لے کرکامیاب ہونے والے زاہد حامد خان کو میدان میں اتارا ہے۔زاہد حامد خان کے بھائی شاہد حامد خان مسلم لیگ (ن) کے سابقہ دور میں گورنر پنجاب بھی رہ چکے ہیں۔
 پاکستان مسلم لیگ (ق) نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت سابق تحصیل ناظم چوہدری مقصود احمد سلہریا کو ٹکٹ دیا ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی وزیر و سابق جنرل سیکرٹری پنجاب چوہدری غلام عباس، انکے بھائی قمر عباس چاند، احسن عباس بھی پارٹی کے فیصلہ کے منتظر ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے سابق صوبائی وزیر سید اختر حسین رضوی کومیدان میں اتارا ہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے ملک ناصر عباس، تحریک استحکام پاکستان کے سید علی رضا، سنی اتحاد کونسل کے رانا محمد عرفاز ، شہباز احمد، یاسر عرفان الاسلام اورچوہدری فضل کریم کے کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں۔ اس علاقہ میں رحمانی، گجر،آرائیں اور کشمیری برادریاں نمایاں ہیں اور یہ الیکشن پر اثر انداز ہونگی۔مسلم لیگ (ن) کے زاہد حامد خان کی پوزیشن مضبوط ہے لیکن مسلم لیگ (ق) کے مقصود احمد سلہریا اور تحریک انصاف کا امیدوار بھی اپ سیٹ کر سکتے ہیں۔